1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انسداد دہشت گردی کی فوجی عدالتیں: پاکستانی قانون کی مدت پوری

پاکستان میں اس دو سالہ قانون کی مدت ہفتہ سات جنوری کے روز پوری ہو گئی، جس کے تحت ملک میں انسداد دہشت گردی کی خاطر سویلین ملزمان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے خفیہ فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

Reporter besuchen die Schule in Peschawar 17.12.2014 (AFP/Getty Images/A Majeed)

پاکستان میں ان فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ پشاور اسکول حملے کے بعد ایک آئینی ترمیم کے ذریعے کیا گیا تھا

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے ہفتہ سات جنوری کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ملک میں فوجی عدالتوں کے طور پر جن ملٹری ٹریبیونلز کا احاطہ یہ قانون کرتا تھا، وہ خاصے متنازعہ تھے، خاص طور پر اس لیے کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی کئی تنظیموں کی طرف سے ان پر سخت تنقید کی جاتی تھی۔

Deutschland Galgen im Neanderthal Museum Mettmann (picture-alliance/dpa/R. Weihrauch)

ان فوجی عدالتوں کی طرف سے مجموعی طور پر 12 مجرمان کو پھانسی دی گئی اور 149 دیگر کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا

ان فوجی عدالتوں کی طرف سے مجموعی طور پر 12 ملزمان کو پھانسی دی گئی اور 149 دیگر ملزمان کو مجرم ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ پاکستان میں ان خفیہ فوجی عدالتوں کا قیام 2014ء میں پشاور میں ایک اسکول پر ہونے والے ایک بہت ہلاکت خیز دہشت گردانہ حملے کے بعد عمل میں آیا تھا۔

تب وفاقی حکومت نے ان عدالتوں کے قیام کا فیصلہ ایک آئینی ترمیم کے بعد کیا تھا اور اس اقدام کی وجہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول کہلانے والے تعلیمی ادارے پر وہ خونریز حملہ بنا تھا، جس میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان ہلاک شدگان میں اکثریت بچوں کی تھی۔

آج ہفتے کے روز جب دو سال کے محدود عرصے کے لیے نافذکیے گئے اس قانون کی مدت پوری ہوئی تو حکومت کی طرف سے تب تک یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ آیا وہ اس قانون میں ممکنہ توسیع کرتے ہوئے آئندہ بھی انسداد دہشت گردی کی ان فوجی عدالتوں کو کام کرتے رہنے دینا چاہتی ہے۔

اس موضوع پر اپنے ایک تجزیے میں اے ایف پی نے لکھا ہے کہ جب دو سال قبل ان فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا تو وجہ ایک ایسا استثنائی اقدام تھا، جس کی مدد سے وفاقی حکومت ملک میں دہشت گردانہ جرائم کے خلاف نظام انصاف میں محدود مدت کے لیے اصلاحات لا سکے۔

Parlamentsgbäude in Islamabad Pakistan (AP)

دو سال کے لیے ان فوجی عدالتوں کا قیام وفاقی پارلیمان میں ایک آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد عمل میں آیا تھا

لیکن ان ملٹری کورٹس کے قیام کے ساتھ ہی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیموں نے زیادہ شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھی کہنا شروع کر دیا تھا کہ یہ عدالتیں تو دنیا کے کسی بھی ملک میں قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں کے کم از کم معیارات پر بھی پورا نہیں اترتی تھیں۔

اس سلسلے میں انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (ICJ) نامی تنظیم نے جمعہ چھ جنوری کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان فوجی عدالتوں کے قیام کے ساتھ ملکی نظام انصاف میں اصلاحات کی حکومتی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں اور مستقبل میں انسداد دہشت گردی کے لیے چلائے جانے والے مقدمات زیادہ منصفانہ اور قابل اعتماد ہونا چاہییں۔

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستانی حکومت کو ان خفیہ فوجی عدالتوں کی کارکردگی کے تسلسل کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہوئے ایسے کسی قانون کی دوبارہ منظوری یا نفاذ سے بھی احتراز کرنا چاہیے۔

DW.COM