1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انسباخ خود کش حملہ، بمبار ’جہادی‘ تھا

جرمن صوبے باویریا کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ انسباخ میں حملہ کرنے والے شامی مہاجر نے داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی ’بیعت‘ کر رکھی تھی ۔ اتوار کو باویریا میں اس مہاجر نے خود کش حملے میں پندرہ افراد زخمی کر دیے تھے۔

باویریا کے وزیر داخلہ یوآخم ہیرمان نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اتوار کی شب انسباخ میں حملہ کرنے والے ستائیس سالہ شامی مہاجر کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ سے ایسی ویڈیو برآمد ہوئی ہیں، جن میں ’جہادی مواد‘ موجود ہے۔

ہیرمان نے کہا کہ جس مقام پر اس غیر ملکی نے حملہ کیا تھا اور جہاں وہ رہتا تھا، وہاں متعدد موبائل فون سم کارڈز، دو موبائل فون اور ایک لیپ ٹاپ بھی ملا، جن کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور نے ابوبکر البغدادی سے وفاداری کا عہد کر رکھا تھا۔

جرمن پولیس نے پیر کے دن مہاجرین کے ایک ہوسٹل میں چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے کچھ اشیاء ضط کر لی تھیں۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ کارروائی انسباخ میں ہوئے حملے کی تحقیقات کا حصہ تھی۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ پولیس اہلکار انسباخ میں اتوار کی رات ہونے والے اس حملے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس مقصد کے لیے جرمن پولیس نے آج پچیس جولائی بروز پیر ایک ایسے ہوسٹل پر بھی چھاپہ مارا، جہاں مہاجرین قیام پذیر ہیں۔

انسباخ حملے کا ذمہ دار ایک شامی مہاجر کو قرار دیا جا رہا ہے، جس کی عمر ستائیس برس تھی۔ پولیس نے کہا ہے کہ جب تک تفتیشی عمل مکمل نہیں ہوتا، تب تک اس پرتشدد کارروائی پر کوئی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہو گا۔ یہ امر اہم ہے کہ جرمنی میں ایک ہفتے کے دوران اپنی نوعیت کی یہ چوتھی پرتشدد کارروائی تھی۔

Deutschland Ansbach Explosion PK Joachim Herrmann

یوآخم ہیرمان کے مطابق ستائیس سالہ شامی مہاجر کے موبائل اور لیپ ٹاپ سے ایسی ویڈیو برآمد کر لی گئی ہیں، جن میں ’جہادی مواد‘ تھا

پولیس نے بتایا ہے کہ اس خود کش دھماکے کے نتیجے میں حملہ آور مارا گیا جب کہ پندرہ افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ صوبہ باویریا کے وزیر داخلہ یوآخم ہرمان نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ کارروائی اسلام پسندانہ دہشت گردی ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا تھا کہ پختہ شواہد ملنے تک کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم ثبوت ملنے پر انہوں نے اب تصدیق کر دی ہے کہ یہ حملہ دراصل ’ایک جہادی کارروائی تھی‘۔

انسباخ میں حملہ کرنے والا شامی شہری دو سال قبل جرمنی پہنچا تھا جبکہ گزشتہ برس اس کی پناہ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ حکام نے بتایا ہے کہ اسے بلغاریہ ڈی پورٹ کیا جانا تھا، کیونکہ اسی ملک میں اس کی پہلی مرتبہ رجسٹریشن ہوئی تھی۔ جرمن وزارت داخلہ کے مطابق شامی مہاجرین کو ملک بدر کرتے ہوئے شام روانہ نہیں کیا جاتا کیونکہ وہاں کی صورت حال خراب ہے لیکن ایسے مہاجرین کو دیگر یورپی ممالک بھیجا جا سکتا ہے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ یہ شامی مہاجر پولیس کی لسٹ پر تھا کیونکہ اسے منشیات سے متعلقہ جرائم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ نفسیاتی مسائل کا شکار بھی تھا اور اس لیے نفسیاتی ماہرین نے اس کی مدد بھی کی تھی۔ یہ مہاجر دو مرتبہ خود کشی کی ناکام کوشش بھی کر چکا تھا۔

پولیس کے مطابق گزشتہ رات اس حملہ آور نے صوبے باویریا کے انسباخ نامی شہر میں ایک ایسی جگہ کے باہر دھماکا کیا، جہاں ایک میوزک کنسرٹ ہو رہا تھا۔ پولیس کے مطابق اسے کنسرٹ میں جانے سے روک دیا گیا تھا کیونکہ اس کے پاس ٹکٹ نہیں تھا۔ حکام کے مطابق اگر وہ اندر چلا جاتا تو یہ کارروائی زیادہ خونریز ہو سکتی تھی۔

یورپی یونین نے جرمنی میں ہونے والے حالیہ حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یورپی کمیشن کی ترجمان مارگریٹیس شنائز نے کہا ہے کہ مہاجرین کے لیے ہمدردی کے باعث سکیورٹی تحفظات پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ہے، ’’ ایسے افراد کے لیے یورپ کے دروازے کھلے ہیں، جو اپنے ممالک میں جنگی حالات اور تشدد کے خوف سے فرار ہو رہے ہیں۔ لیکن یورپی طرز زندگی پر حملوں کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘