1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

انسان ہوں یا بندر، موت کا صدمہ ایک سا

برطانوی سائنسدانوں نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بندر بھی اپنے پیاروں کی موت کا صدمہ ویسا ہی محسوس کرتے ہیں، جیسا انسان۔ کسی بندر کی موت کے بعد کافی دن تک اس سے تعلق رکھنے والے بندر خود کوشکست خودہ محسوس کرتے ہیں۔

default

سکاٹ لینڈ کے سائنسدانوں کی یہ رپورٹ ایک فلم پر مبنی ہے، جس میں چیمپینزی میں دکھ اور افسوس کی محسوسات کو عکس بند کیا گیا ہے۔ اس فلم میں ایک بوڑھی مادہ بندر کے ہلاک ہو جانے کے بعد اس کے گروپ کے دیگر بندروں کو متعدد روز تک غم زدہ محسوس دیکھا جا سکتا ہے۔

Schimpanse im Senegal

بندر بھی انسان کی طرح اپنے پیاروں کی موت کا دکھ محسوس کرتے ہیں

دیگر محقیقن نے اسی موضوع پر ایک اور رپورٹ میں اُن مادہ بندروں کو عکس بند کیا ہے، جو اپنے مردہ بچوں کو کندھوں پر اٹھائے گھومتی پھر رہی تھیں۔ سائنسدانوں کی یہ دونوں رپورٹیں کرنٹ بائیولوجی نامی سائنسی جریدے میں شائع کی گئی ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اس رپورٹ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دیگر حیوانات کے مقابلے میں بندروں میں انسانی خواص زیادہ پائے جاتے ہیں۔

بوڑھی مادہ بندریا کی موت اور دیگر بندروں کی کیفیات عکس بند کرنے والی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ، سٹرلنگ یونیورسٹی سے وابستہ محقق جیمزاینڈرسن کے مطابق : ’’چند خواص انسان کو دیگر حیوانات سے ممتاز کرتے ہیں، جیسے وجوہات کا کھوج، بولنے کی حس، آوزار کا استعمال، ثقافتی تنوع اور ذاتی شعور، مگر چند چیزیں ظاہر کر رہی ہیں کہ جیسا ہم آج تک سوچتے رہیں ہیں، حقیقت اس سے قدرے مختلف ہے۔ موت کے بارے میں احساس ایسی ہی محسوسات ہیں۔‘‘

Säugetiere/Primaten

بندروں میں افسوس کی یہ محسوسات دیگر جانوروں کے مقابلے میں زیادہ ہیں

اس رپورٹ کی تیاری میں متعدد ویڈیو کیمرے استعمال کئے گئے۔ اس رپورٹ میں ایک بوڑھی بندریا کی زندگی اور پھر موت کو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا ہے۔ پنسی نامی یہ بندریا پچاس برس کی عمر میں بیمار ہو کر ہلاک ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق جب وہ اپنے آخری ایام میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی تو اس کے گروپ کے دیگر بندر اس کو دیکھنے عام حالات کی نسبت زیادہ بار آتے رہے اور وہ رات دیر تک اس بندریا کے پاس قیام بھی کرتے رہے۔

اس بندریا کی موت کے بعد اس کی بیٹی ایک پوری رات اپنی ماں کی لاش کے قریب بیٹھی رہی اور ایک پل کے لئے بھی نہیں سوئی۔ اس گروپ کے تمام بندروں کو پریشان اور افسوس کا اظہار کرتے دیکھا گیا۔

اسی موضوع پر مرتب کی گئی دوسری رپورٹ کے حقائق بھی انتہائی دلچسپ ہیں۔ یہ رپورٹ آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے تیار کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گنی کے ایک جنگل میں دو مادائیں اپنے مردہ بچوں کی لاشوں کو تقریبا دس ہفتوں تک اپنے کندھوں پر اٹھائے جنگل بھر میں پھرتی دیکھی گئیں۔ اس سے قبل اسی رویے کو 1992ء میں بھی عکس بند کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مردہ بچوں کی لاشیں دھیرے دھیرے سوکھتی گئیں اور یہ مادہ بندر لاٹھیوں کو سہارا بنا کر ان لاشوں پر مکھیوں کو بیٹھنے سے روکنے کی کوشش کرتی رہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عابد حسین