1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

انسان کو مریخ تک پہنچانے کے لیے ناسا کا نیا راکٹ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے بدھ 14 ستمبر کو ایک نئے اور بہت بڑے راکٹ کا ڈیزائن پیش کیا ہے۔ یہ راکٹ انسان کو مریخ تک لے جا سکتا ہے۔

default

ناسا کے سربراہ چارلس بولڈن نے اس نئے راکٹ کا ڈیزائن پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیا نظام جسے اسپیس لانچ سسٹم (SLS) کا نام دیا گیا ہے، اب تک کا سب سے طاقتور راکٹ ہے۔ اس سے پہلے طاقتور ترین راکٹ سیٹرن پانچ (Saturn V) تھا جو انسان کو چاند تک لے گیا تھا۔

ناسا کے سربراہ نے اسے ایک تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہا: ’’مریکہ کی خلائی تحقیقات سے متعلق کہانی کا اگلا باب آج سے لکھنا شروع کیا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے امریکی صدر اوباما کی طرف سے خلائی تحقیق کی حوصلہ افزائی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا: ’’صدر اوباما نے ہمیں چیلنج دیا کہ ہم خلائی تحقیق کے میدان میں زیادہ جرآت مندانہ اور بڑے خواب دیکھیں اور یہی سب کچھ ہم ناسا میں کر رہے ہیں۔‘‘

توقع کی جا رہی ہے کہ ابتدائی طور پر یہ نیا نظام 2017ء تک تیار ہو جائے گا اور اس پر قریباﹰ 35 بلین ڈالرز کی لاگت آئے گی۔ ناسا کے شٹل پروگرام کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ نیا نظام خلاء میں جانے کی امریکی صلاحیت میں آنے والے خلاء کو پُر کرے گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ زمین کے قریبی مدار کے علاوہ خلاء میں دور تک سفر کرنے کے لیے یعنی مریخ تک سفر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

SLS انسان کو خلاء کی وسعتوں تک لے جائے گا

SLS انسان کو خلاء کی وسعتوں تک لے جائے گا

ابتدائی طور پر اسپیس لانچ سسٹم کے لیے ٹیکنالوجی کا زیادہ بڑا حصہ اسپیس شٹل پروگرام سے ہی لیا گیا ہے۔ مثلاﹰ راکٹ کے پہلے حصے یا فرسٹ اسٹیج کے لیے دراصل شٹل میں استعمال ہونے والا کرائیو جینک انجن ہی استعمال کیا جائے گا۔ یہ کرائیو جینک بہت ہی کم درجہ حرارت پر مائع ہائیڈروجن اور آکسیجن کو بطور ایندھن استعمال کرتا ہے۔

اس راکٹ کے بالائی حصے پر ایک کیپسول نصب ہوگا جو ابتدائی طور پر 70 سے 100 میٹرک ٹن کا وزن خلاء میں لے جا سکتا ہے۔ اس نظام کی مزید جدید قسم میں اس پے لوڈ کو 130 میٹرک ٹن تک کرنے کا منصوبہ ہے۔

ناسا کی طرف سے اس نئے نظام کی پہلی آزمائشی پرواز کے لیے 2017ء کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ پہلی انسان بردار پرواز 2021ء میں خلاء کے لیے روانہ کی جائے گی۔ ناسا کا منصوبہ ہے کہ مریخ پر انسان بردار پرواز 2030ء میں روانہ کی جائے۔ تاہم اس امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے کے مطابق اس سے قبل 2025ء میں ایک بڑے شہاب ثاقب یعنی ایسٹروئڈ تک انسان بردار پرواز روانہ کی جائے گی۔

ناسا کے سربراہ چارلس بولڈن کے مطابق اس نئے منصوبے سے اقتصادی طور پر مشکلات کے شکار امریکہ میں ذرائع روزگار بھی پیدا ہوں گے۔ بولڈن کے مطابق یہ پروگرام ’’اچھے مشاہرے والی ملازمتیں پیدا کرے گا اور خلاء میں امریکہ کی رہنما حیثیت برقرار رکھنے کے علاوہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا مؤجب بنے گا۔‘‘

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس