1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انسان دوستی کا عالمی دن

اقوام متحدہ اور دوسرے فلاحی ادارے اور امدادی تنظیمیں آج اگست کی19 تاریخ کو دنیا بھرمیں ’انسان دوستی‘ کا عالمی دن اس جذبے کے ساتھ منا رہی ہیں کہ دنیا بھر میں انسانی فلاح و بہبود کے لئے متحرک افراد کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

default

اقوام متحدہ کی جانب سے اگست کی انیس تاریخ کو دنیا بھر میں انسان دوستی کے عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ سن 2008 ء میں کیا تھا۔ یہی دن بغداد شہر کے کینال ہوٹل میں بم دھماکے میں اقوام متحدہ کے بائیس افراد کے ہلاک ہونے کی برسی بھی ہے۔ دنیا بھر میں آج اس دن کو اس حوالے سے

Pakistan Überschwemmung Flutkatastrophe Hilfe für Flüchtlinge

پاکستانی متاثرین سیلاب اور امداد

منایا جا رہا ہے کہ خلق خدا کی بھلائی کی سرگرمیوں کے حوالے سے بنیادی سمجھ بوجھ کو عام کرنے کے ساتھ ان سرگرمیوں میں شریک افراد کا احترام اور جو لوگ کار خیر کرتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں ان کو یاد بھی کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا، آج کے دن کی مناسبت سے کہنا ہے کہ امدادی کارکن انسانی فطرت کا بہترین مظہر ہیں۔ اس دن کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بان کی مون نے امدادی کارکنوں بشمول اقوام متحدہ کے سٹاف پر حملوں کے بڑھتے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔

یورپی کمیشن نے بھی انسان دوستی کے دوسرے عالمی دن کے موقع پر ان افراد کو خراج تحسین پیش کیا ہے، جو انسانی بھلائی کے عمل میں مصروف ہیں۔ یورپی کمیشن نے اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کئے گئے ماٹو میں اضافہ بھی کیا ہے۔ اقوام متحدہ کا پیغام ہے کہ ’مجھے مت مارو میں امدادی کارکن ہوں‘ ۔ یورپی کمیشن نے ماٹو دیا ہے کہ یورپ انسانی سرگرمیوں کے تحفظ کا پابند ہے۔ یورپی کمیشن کے بین الاقوامی تعاون اور انسانی ہمدردی کے ادارے کی کمیشنر کرسٹالینا جیورجیوا نے پاکستان کے سیلاب سے

EU Kirgistan EU-Kommissarin Kristalina Georgieva Hilfe

یورپی کمیشن کی بین الاقوامی تعاون کی کمیشنر کرسٹالینا جیورجیوا: فائل فوٹو

متاثرہ علاقوں میں مصروف امدادی کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسانیت کی اعلیٰ اقدار کے علمبردار ہیں اور دوسرے افراد سے بھی اپیل کی کہ وہ اس نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

یہ امر اہم ہے کہ سن 2009 ءکے دوران انسانی ہمدردی کے عمل میں مصروف افراد کی مختلف حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد تین گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ سن2008 ء میں ہلاک ہونے والے امدادی کارکنوں کی تعداد تیس تھی اور گزشتہ سال یہ تعداد 102 تک پہنچ گئی۔ عالمی برادری اور بین الاقوامی امدادی ادارے اس رجحان پر بھی تشویش اور پریشانی کا شکار ہیں۔

اس مناسبت سے تازہ ترین یہ ہے کہ بدھ کو جمہوریہ کانگو کے علاقے شمالی کیوو میں اقوام متحدہ کے مشن پر نامعلوم افراد کا حملہ ہوا، جس میں کم از کم تین امن فوجی دستوں کی ہلاکت کو رپورٹ کیا گیا ہے۔ اسی طرح سوڈان کے شورش زدہ خطے دارفور میں امن فوجی دستوں میں شامل دو اردنی فوجیوں کے چند دن قبل اغوا پر بھی عالمی برادری کی تشویش شامل ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس