1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انسانی کھوپڑی جرمن بچوں کے ہاتھ لگ گئی

جرمنی کے ایک جنگلاتی علاقے میں انسانی کھوپڑی اور کچھ ہڈیاں ملی ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ دریافت اس کیس کی تفتیش میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، جس میں گزشتہ برس اس علاقے سے انسانی جسم کے دھڑ کے ٹکڑے برآمد ہوئے تھے۔

گزشتہ برس دریائے رائن کے کنارے کچھ نوجوانوں کو انسانی دھڑ کے کٹے ہوئے ٹکرے ملے تھے، جن کے بارے میں تفتیشی عمل جاری تھا۔ تاہم بدھ کے دن پولیس نے بتایا ہے کہ اسی علاقے سے ایک انسانی کھوپڑی اور کچھ دیگر یڈیاں ملی ہے۔  ان ہڈیوں کے حوالے سے تفتیش و تحقیقات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

پانچویں کلاس کے بچوں کو یہ ہڈیاں دریائے رائن کے قریب واقع جنگل سے ملی ہیں۔ بظاہر  ان انسانی باقیات کو  دفن نہیں کیا گیا تھا بلکہ مبینہ طور پر اسے عام پتوں سے چھپا دیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ جو ہڈیاں ملی  ہیں وہ کھوپڑی، بازو اور ٹانگوں کی ہیں۔

Polizei Köln - Männlicher Torso im Plastiksack - Zeugenaufruf (Polizei Köln)

یہ ٹی شرٹ گزشتہ برس جولائی میں برآمد ہوئی تھی

 پانچویں جماعت کے طلبا کا ایک گروپ جرمنی کے چوتھے بڑے شہر کولون کے ایک علاقے فوگل زانگ کے گھنے جنگل کے ایک حصے سے گزر رہا تھا، جب ایک طالب علم کی ٹھوکر سے انسانی ہڈیوں میں سے ایک سامنے آ گئی۔ اس کے بعد بچوں کو انسانی کھوپڑی اور مزید ہڈیاں بھی ملیں۔ تب بچوں کے ساتھ گئے ہوئے ٹیچرز نے پولیس کو مطلع کر دیا۔

پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد بتایا کہ ان ہڈیوں کو دفن نہیں کیا گیا تھا اور یہ صرف ڈھانپی گئی تھیں۔ ان کے ڈی این اے ٹیسٹ سے تصدیق ہو گئی ہےکہ ان ہڈیوں کا تعلق گزشتہ برس ملنے والی اسی انسانی دھڑ کے ٹکروں سے ہے۔

فوٹو کیپش اس لاش کی  ٹی شرٹ بھی گزشتہ برس جولائی میں دستیاب ہو چکی ہے۔

 یہ حسنِ اتفاق ہے کہ انسانی دھڑ کے ٹکرے بھی گزشتہ برس بچوں کو ہی ملے تھے۔ دریائے رائن کے کنارے کھیلتے ہوئے بچوں کو ایک پلاسٹک بیگ ملا تھا اور جب اُسے کھولا گیا تو اُس میں سر، بازو اور ٹانگوں کے بغیر انسانی دھڑ کے ٹکڑے تھے۔ اُس وقت پولیس نے صرف یہی واضح کیا تھا کہ یہ ایک بیس سے پینتیس برس کے سفید فام نوجوان کی باقیات ہیں۔

Polizei Köln - Männlicher Torso im Plastiksack - Zeugenaufruf (Polizei Köln)

ہلاک ہونے والے شخص نے یہ جوتے پہن رکھے تھے

لاش کی کھوپڑی اور بقیہ ہڈیاں ملنے پر پولیس نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ تفتیش اب آگے ضرور بڑھے گی۔ ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے پولیس نے بتایا کہ سردست اس کیس کے حوالے سے زیادہ معلومات  دستیاب نہیں ہیں اور فرانزک ماہرین ہڈیوں کی حتمی شناخت کا تحقیقاتی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ انسانی باقیات کے ڈی این اے کا کوئی ریکارڈ ڈیٹا بینک میں موجود نہیں ہے۔