1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انسانی ڈھال: داعش نے سینکڑوں مغوی شامیوں کو رہا کر دیا

عسکریت پسند تنظیم داعش نے شمالی شام میں انسانی ڈھال کے طور پر اغوا کردہ قریب دو ہزار شہریوں میں سے سینکڑوں رہا کر دیے ہیں۔ یہ بات سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس اور امریکی حمایت یافتہ شامی باغیوں کی طرف سے بتائی گئی۔

لبنانی دارالحکومت بیروت سے ہفتہ تیرہ اگست کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ان شہریوں کو ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے پسپا ہوتے ہوئے جہادیوں نے شمالی شام میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کی خاطر اغوا کیا تھا۔

خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے شمال میں اسی ہفتے منبج کے شہر میں داخل ہونے والی باغیوں کی سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کی طرف سے وہاں سے نکالے جانے کے دوران داعش کے جہادیوں نے دو ہزار کے قریب عام شہریوں کو اس لیے انسانی ڈھال بنا لیا تھا کہ وہ پیچھے ہٹتے ہوئے خود کو امریکی فضائی حملوں سے محفوظ رکھ سکیں۔

شامی اپوزیشن کی سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF)، جو دراصل عرب کرد جنگجوؤں کا ایک عسکری اتحاد ہے، منبج میں داخل ہونے میں اس لیے بھی کامیاب رہی تھیں کہ انہیں امریکا کی قیادت میں داعش کے خلاف سرگرم بین الاقوامی اتحاد کے جنگی طیاروں کے فضائی حملوں کی صورت میں عسکری مدد بھی حاصل تھی۔

ایس ڈی ایف کے ایک ذریعے نے آج اے ایف پی کو بتایا کہ داعش کے جنگجوؤں کی طرف سے انسانی ڈھال بنائے گئے شامی شہریوں میں سے کچھ تو جہادیوں کے قبضے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ’بہت سے دیگر رہا کر دیے گئے‘۔

اسی دوران برطانیہ میں قائم اور شام کی صورت حال پر نظر رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی کہا ہے کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا ’دولت اسلامیہ‘ کے اغوا کردہ شہریوں میں سے سینکڑوں اب اس تنظیم کے عسکریت پسندوں کے قبضے میں نہیں ہیں۔

’شامی جمہوری قوتوں‘ یا ایس ڈی ایف کے فائٹرز نے منبج پر قبضے کے لیے اپنی مسلح کوششیں مئی میں شروع کی تھیں۔ یہ شہر شام میں داعش کے ’دارالخلافے‘ کی حیثیت رکھنے والے شہر رقہ اور ترکی کے ساتھ سرحد تک کے سپلائی روٹ پر واقع ایک انتہائی اہم شہر ہے۔

کل جمعے کے روز جب داعش کے جہادی منبج سے فرار ہو رہے تھے تو وہ امریکی فضائی حملوں سے بچنے کے لیے اور ترک شامی سرحد پر واقع اپنے ساتھی جہادیوں ہی کی زیر قبضہ قصبے جرابلس کی طرف جاتے ہوئے تقریباﹰ دو ہزار شام شہریوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

سیریئن آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا، ’’داعش کے جنگجو بہت سے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ لیکن کئی شہری ایسے بھی تھے جو منبج میں انتقامی کارروائیوں کے خوف سے رضاکارانہ طور پر ان فرار ہوتے ہوئے عسکریت پسندوں کے ساتھ چلے گئے تھے۔ ان میں سے سینکڑوں اب داعش کے قبضے میں یا اس کے جہادیوں کے ہمراہ نہیں ہیں۔‘‘

رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ ان کے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق منبج اور اس کے نواحی علاقوں پر قبضے کے لیے ہونے والی لڑائی میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے قریب 300 جنگجوؤں اور داعش کے ایک ہزار سے زائد جہادیوں کے علاوہ 437 عام شہری بھی مارے گئے، جن میں 100 سے زائد بچے بھی شامل تھے۔

DW.COM