1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’انسانی عظمت لازوال ہے‘، جرمنی میں مشترکہ اپیل کا مکمل متن

جرمنی میں مختلف مذاہب اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے مہاجرین کے موضوع پر کشادہ دلی کے مظاہرے کی اپیل جاری کی ہے۔ ڈی ڈبلیو اس اپیل کا متن جاری کر رہا ہے۔

عدم رواداری، دشمنی اور تشدد کے خلاف عالمیت، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے یکجہتی۔ جرمنی ایک جمہوری اور تمام دنیا کے لیے فراخ دل ملک ہے جو یورپی یونین میں شامل ہے اور اُس کے عالمگیر انسانی حقوق، اس کی اقدار یورپی اقتصادی کمیونٹی EEC کے پابند ہیں۔ جرمنی میں عشروں سے مختلف رنگ و نسل، ثقافتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے انسان آباد ہیں۔ چاہے یہ کئی نسلوں سے اس ملک میں آباد ہوں، تارک وطن ہوں یا مہاجر کی حیثیت سے جرمنی آئے ہوں، جرمن آئین بلا تفریق انسانی وقار اورعظمت کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔

ہر وہ انسان جو اپنے ملک میں جنگ اور ظلم و ستم کا شکار ہو اور جس کی جان کو خطرہ لاحق ہو، اُسے یورپ میں پناہ کا حق حاصل ہے۔ ہم اس امر کی وکالت کرتے ہیں کہ جرمنی کو آئندہ بھی اپنی انسانی ہمدردی کی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں۔

ساتھ ہی اس بارے میں کوئی دو آراء ہو ہی نہیں سکتیں کہ ہمیں یورپی سطح پر مہاجرین کے بحران کا ایک مشترکہ حل درکار ہے تاکہ مہاجرت کی وجوہات کے خلاف مؤثر جنگ کی جا سکے، تحفظ کے متلاشی افراد کے خدشات دور کیے جا سکیں اور اُنہیں اُن کا حق مل سکے۔ یورپی یونین کے رکن کسی بھی ملک کو اس ضمن میں مشترکہ ذمہ داری سے دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔

اتنی بڑی تعداد میں آنے والے مہاجرین کا استقبال اور اُن کا انضمام بہت سے سماجی، اقتصادی اور معاشرتی چیلنجز سے جُڑا ہوا ہے۔ ہزاروں جرمن شہریوں، سماجی کارکنوں، رضاکاروں اور حکومتی محکموں، پولیس اور امدادی تنظیموں کےکارکنوں نے جس طرح سے امدادی کاموں میں حصہ لیا ہے وہ متاثر کُن ہے۔ اس قسم کی منظم سرگرمیاں سماجی ہم آہنگی کے لیے اہم ہیں۔ مہاجرین کے لیے اس طرح کا غیر مغلوب امدادیت کا جذبہ اس امر کی نشاندہی ہے کہ یکجہتی اور انسانیت ہماری معاشرتی اقدار میں رچی بسی ہوئی ہے۔

جرمنی کو اپنی مستقبل کی صلاحیتوں اور قابلیت کے لیے ابھی بہت زیادہ سرمایہ کاری کرنا پڑے گی۔ اس کی ضرورت ایک عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی تاہم مہاجرین کی بہت بڑی تعداد کی آمد کے سبب یہ ضرورت ہنگامی ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں تعلیم، تربیت اور روزگار کی فراہمی میں سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ کافی تعداد میں سستی رہائش کی فراہمی، ایک فعال پبلک انفرا اسٹرکچر یا عوامی بنیادی ڈھانچہ اور تشدد سے بچاؤ کے لیے سکیورٹی فراہم کرنا ہو گی۔ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے عمل میں غربت، بے روز گاری اور معاشرتی تحفظ سے محروم افراد کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہر کسی کو سماجی زندگی میں حصہ لینے کے برابر مواقع میسر ہونے چاہییں۔

پناہ گزینوں کا مہذب استقبال، ان کے انضمام اور سماجی اور ثقافتی تقسیم کی روک تھام، مشترکہ سماجی ذمہ داریاں ہیں۔ وفاقی، ریاستی اور مقامی حکومتوں، کاروباری اور تجارتی انجمنوں، گرجا گھروں اور مذہبی برادریوں، فلاحی تنظیموں اور پوری سول سوسائٹی کی تنظیموں کو مل کر یہ ذمہ داری نبھانا ہو گی. ہمیں یقین ہے کہ ہم مل جُل کر ان تمام بڑے چیلنجز سے نمٹ سکتے ہیں جو ہمیں درپیش ہیں۔

جرمن معاشرے میں پُرامن بقائے باہمی اور انضمام اُسی وقت ممکن ہو گا جب ہر کوئی ہمارے آئین اور ہماری سول بقائے باہمی کی اقدار کو قبول کرے۔ اس کا مطلب ہے بلا امتیاز ہر کسی کی مذہبی آزادی کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی کو بھی اپنے ثقافتی اور مذہبی لبادے کی آڑ میں عقائد اور ضمیر کی آزادی کے بنیادی حق، جسمانی سالمیت اور خواتین اور مردوں کی برابری پر سوال اُٹھانے کا حق حاصل نہیں ہونا چاہیے، نہ ہی کوئی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھے۔ ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں اور جرائم کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جاناچاہیے۔ جرائم میں ملوث غیر ملکیوں کو جرمنی میں اپنے قیام کے خاتمے اور ملک چھوڑ دینے جیسے نتائج سے خبر دار رہنا چاہیے۔

بہت سے مہاجریں طویل عرصے تک یا ہمیشہ کے لیے ہمارے ہاں سکونت اختیار کریں گے۔ ان میں سے ہر ایک کو اُس کے درد ناک تجربات، اُس کے نصیب کے ساتھ انسان کی حیثیت سے معاشرے میں قبول کیا جانا چاہیے۔ایک پائیدار کامیاب انضمام سماجی شرکت میں غیر معمولی امکانات کی ضمانت ہوتا ہے تاہم اس کے لیے معاشرے میں ضم ہونے کی خواہش ضروری ہے۔ جرمن زبان سیکھنا اُتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ممکنہ ابتدائی انضمام کی سہولیات جیسے کہ تعلیم، ثقافت، روزگار اور اسپورٹس تک رسائی۔

روزگار کی منڈی میں انضمام دراصل مہاجرین کے پائیدار انضمام کی ایک لازمی شرط ہے۔ اس کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں جن کی مدد سے مہاجرین کو اُن کی رہائش گاہوں کے نزدیک پیشہ وارانہ تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ جلد سے جلد اپنے تربیتی کورسز مکمل کر کے روزگار کی منڈی میں داخل ہو سکیں۔ یہ اقدامات اور پروگرام ایک ایسی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونے چاہییں جن میں مہاجرین کی اقتصادی اور سماجی شرکت کے مواقع مد نظر رکھے گئے ہوں۔

ہم جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ ہم یکجہتی اور عالمیت کے حامی ہیں۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہر شخص جو ہمارے ملک میں پناہ کا متلاشی ہے، اُسے ایک منصفانہ اور قانونی عمل کا حق حاصل ہونا چاہییے۔ ایسے مہاجرین کے ساتھ بھی ہمدردی اور احترام کا سلوک روا رکھا جانا چاہیے جو اقتصادی زبوں حالی اور ناگفتہ بہ صورتحال کے سبب اپنے وطن کو چھوڑ کر جرمنی پہنچے ہوں تاہم سیاسی پناہ کی ان کی درخواستوں کو قانونی طور پر چھان بین کے بعد رد کر دیا گیا ہو اور انہیں جرمنی میں اپنا کوئی مستقبل نظر نہ آ رہا ہو۔

ہمارے لیے اس وقت بڑی تشویش کا سبب دائیں بازو کے وہ انتہا پسند گروپ بنے ہوئے ہیں جو فرار اور مہاجرت کے موضوع کو نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور اس طرح ہمارے آزاد جمہوری نظام پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔ ہم ہر قسم کی منفرت، نسل پرستی، توہین اور تشدد کی مخالفت کا عزم مُصمم رکھتے ہیں۔

اس کے لیے ہمارے مندرجہ ذیل مطالبات ہیں:

* پناہ گزینوں اور مہاجرین کے موضوع پر ہونے والی بحث با مقصد ہونی چاہیے اور اسے پارٹی مفادات یا نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے،

* انسانیت دشمن بیانات کی سختی سے مخالفت کی جانی چاہیے، قطع نظر اس کے کہ وہ کس سمت سے اور کس کو نشانہ بنا کر دیے جا رہے ہیں،

* پناہ گزینوں اور اُن کی رہائش گاہوں، پولیس کے اہلکاروں اور پریس کے نمائندوں پر دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے انسانیت سوز حملوں جیسے جرائم کا سخت قانونی نوٹس لیا جائے۔

ہماری کوششیں:

* سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا،

* ثقافتی، سماجی اور مذہبی اختلافات کے بارے میں مکالمت کی فضا قائم کرنا،

* یکجہتی پر مبنی ایک پائیدار پالیسی جو جرمنی میں رہنے والے تمام لوگوں کو معاشرے میں شرکت کے یکساں مواقع فراہم کرے،

* بہتر اور پائیدار معاشرتی انضمام کی کلید کے طور پر تعیلم کی بہتر پیشکش،

* پناہ گزینوں کے لیے ایک ایسی پالیسی جو ہماری انسانی ہمدردی اور انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق ہو اور سیاسی پناہ کے کیسز پر منصفانہ کارروائی کی ضمانت دے،

* بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ، جن میں عقائد اور ضمیر کی آزادی کا بنیادی حق، جسمانی سالمیت اور خواتین اور مردوں کی برابری اور امتیازی سلوک کی ممانعت شامل ہوں، فراہم کیا جائے،

* تمام انسانوں کو تشدد، نفرت اور غیرملکیوں کے خلاف نفرت سے عبارت جذبات سے تحفظ فراہم کیا جائے،

* وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کو مہاجرین کے پائیدار انضمام کو ممکن بنانے کے لیے مناسب مالی امداد فراہم کی جائے تاکہ وہ موجودہ اور مہاجرین کی آمد سے پیدا ہونے والے مزید چیلنجز سے نمٹ سکیں،

* جرائم کے خلاف جنگ میں ریاستی طاقت کے غلبے کے نفاذ اور تشدد کے بغیر پُرامن بقائے باہمی کو ممکن بنایا جائے،

* ایک ایسا یورپ جو انسانی وقار کی حفاظت اور پُرامن بقائے باہمی کے امکانات کا گہوارا ہو۔

موجودہ بحرانی صورتحال میں ہمیں اپنے ہاں قانون کی بالادستی اور سماجی انسانی ہمدری کے شعبوں میں اپنی کامیابیوں کے حصول کو ترک نہیں کرنا چاہیے. انسان کے وقار کی حفاظت ہمارا نصب العین ہے. اس لیے ہم اتحادی قوتوں کے ساتھ مل کر جرمنی اور یورپ میں عالمیت، یکجہتی، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی بالا دستی کی جدوجہد میں شامل ہونے کے لیے پرعزم ہیں۔