1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انسانی حقوق کے چینی کارکن ہو ژیا رہا

چین کے مشہور سماجی کارکن ہو ژیا کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ژیا کو 2008ء میں اولمپک گیمز کے آغاز سے چند ماہ قبل بغاوت کے ایک مقدمے میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

default

ہو ژیا کو 2008ء میں گرفتار کیا گیا تھا

چین میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ہو ژیا اتوار کے صبح اپنے گھر لوٹ گئے۔ اس بات کی تصدق ان کی اہلیہ اور ایک ساتھی نے ٹویٹر کے ذریعے کی۔ ان کی اہلیہ نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ’’ہو ژیا صبح ڈھائی بجے گھر پہنچے۔ وہ بہت خوش اورمطمئن دکھائی رہے تھے۔ گھر آتے ہی وہ آرام کرنے چلے گئے‘‘۔

37 سالہ ہو ژیا ایک طویل عرصے سے ایڈز کے مریضوں، تحفظ ماحول اور شہری حقوق کے لیے کام کر رہے تھے۔ لیکن ان کی انہی سرگرمیوں کی وجہ سے 2008ء میں چین کی کمیونسٹ حکومت ان سے ناراض ہو گئی اور اپریل کے مہینے میں انہیں گرفتار کرتے ہوئے جیل بھیج دیا گیا۔ گزشتہ دنوں کے دوران بیجنگ حکومت کے یہ دوسرے ناقد ہیں ، جنہیں رہا کیا گیا ہے۔ اس سے قبل حکومت نے ملک کے معروف فن کار اور ناقد آئی وے وے کو تین ماہ کی حراست کے بعد ضمانت پہ رہا کر دیا تھا۔

China Menschenrechte Hu Jia

امکان ہے کہ ہو ژیا سرگرمیوں کو بھی محدود کر دیا جائے

ہو ژیا پر رہائی کے بعد بھی سخت نگاہ رکھی جائے گی اور امکان ہے کہ ان کی سرگرمیوں کو بھی محدود کر دیا جائے گا۔ آئی وے وے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی سلوک کیا گیا ہے۔ تاہم رہائی کی شرائط میں سے ایک خاموش رہنا بھی ہے۔ آئی وے وے کی گرفتاری پر عالمی برادری کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔

چینی وزیراعظم وین جیاباؤ اس وقت یورپ کے دورے پر ہیں اور ہر مرتبہ چینی رہنماؤں سے انسانی حقوق کے موضوع پر بات کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ حکام کی جانب سے دو ناقدین کی رہائی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ وین جیا باؤ سے انسانی حقوق کے حوالے سے بات نہ کی جائے۔

ہو ژیا کی رہائی کے بارے میں جیسے ہی معلوم ہوا، توصحافیوں کی ایک بڑی تعداد ژیا کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہو گئی۔ اس موقع پر پولیس کی ایک بھاری نفری بھی وہاں تعینات تھی، جس کی وجہ سے ہو ژیا ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات نہیں کر سکے۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس