1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انسانی حقوق اور تحفظ ماحول کا چولی دامن کا ساتھ، تبصرہ

صرف آمر، جابر حکمران اور ظلم و ستم کرنے والے ہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب نہیں ٹھہرتے بلکہ ان کی پامالی میں موسمیاتی تبدیلیوں اور ان کا باعث بننے والے معاشرے بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

جمعرات دس دسمبر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ جس مقام پر اس وقت پیرس میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس جاری ہے، وہاں سے انیس کلومیٹر کے فاصلے پر آج سے 67 برس پہلے دس دسمبر کو ’’انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ‘‘ پیش کیا گیا تھا۔ آج بھی دنیا میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جبکہ چین، ایران اور سعودی عرب ایسے ملکوں میں بڑے پیمانے پر پھانسیاں دی جا رہی ہیں۔ بہت سے ملکوں میں پولیس کی طرف سے تشدد اور آزادی رائے کے خلاف جبر عام سی بات ہے۔

آج ماحولیاتی کانفرنس کے شرکاء سے بھی یہ اپیل کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے اختلافات پس پشت ڈالتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے آرٹیکل نمبر تین کے بارے میں سوچیں، جو زندگی گزارنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ ابھی سے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بالواسطہ اور بلا واسطہ بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔

مثال کے طور پر ’’شدید موسم کے واقعات‘‘ میں مسلسل اور تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ انیس سو پچانوے سے لے کر دو ہزار چودہ تک کے درمیانی عرصے میں آنے والے سمندری طوفانوں اور سیلابوں کی وجہ سے پانچ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ موسمیاتی نظام اس قدر پیچیدہ ہے کہ اس میں تبدیلیوں کی بڑی اور واضح وجوہات بیان کرنا مشکل ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماہرین موسمیات کی پیشین گوئیوں کے مطابق ’موسموں کی شدت‘ میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

von Hein Matthias Kommentarbild App

تبصرہ نگار ماتھیاس فان ہائن

بالواسطہ طور پر بھی موسمیاتی تبدیلیاں ہلاکتوں کا سبب بن رہی ہیں اور ان سے متعدد ممالک غیر مستحکم ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر شام خانہ جنگی سے پہلے بھی کئی برسوں سے خشک سالی کا شکار چلا آ رہا تھا، جس کی وجہ سے تقریباﹰ پندرہ لاکھ کسانوں نے شہروں کی طرف نقل مکانی کی تھی۔ یہ ایک ایسا وقت تھا، جب عراق سے ہزاروں مہاجرین شام پہنچ رہے تھے اور ایسی صورتحال سے نمٹنا آسان کام نہیں تھا۔ اگر موسمیاتی تبدیلیاں ایسے ہی جاری رہیں تو نتیجتاﹰ بڑے پیمانے پر آبادیوں کی نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، جس سے نمٹنا انتہائی مشکل ہو گا۔

دنیا میں ہر تین سیکنڈ بعد ایک شخص بھوک کی وجہ سے ہلاک ہو رہا ہے اور اکثر اوقات یہ بچے ہوتے ہیں۔ آپ اپنی گھڑی پر نظر ڈالیں۔ ایک، دو اور موت۔ کیا ہم چاہتے ہیں کہ طویل المدتی طور پر ایسا ہی ہوتا چلا جائے؟

انسانیت کو اس بات کا ادراک ہو چکا ہے کہ مزید اس طرح چلنا ناممکن ہے۔ پیرس میں صنعتی ممالک کو ہر صورت میں کوئی پیش رفت کرنا ہو گی اور باقیوں کو ان کی پیروی۔ یہ زمین اور اس کے ماحول کی تباہی کا سوال نہیں ہے۔ زمین انسانوں کے بغیر بھی قائم رہ سکتی ہے، یہ دراصل خود انسانوں کی بقا کا سوال ہے اور یہ بقا زمین کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔