1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

انسانی جینز جانوروں میں: تجربات کے لیے قوانین کا مطالبہ

برطانوی سائنسدانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی جینز جانوروں میں استعمال کرنے کے تجربات کے لیے قوانین بنائے جائیں تاکہ ایسے تجربات کو نہ صرف اخلاقی طور پر قابل قبول بنایا جاسکے بلکہ یہ تجربات کسی عفریت کو جنم نہ دے سکیں۔

default

ان سائنسدانوں کے مطابق جانوروں میں انسانوں کے جینز یا خلیے داخل کرنے یا سائنسی اصطلاح میں ’ہیومنائزنگ اینیملز‘ کے ذریعے انسانی جسم کے کام کرنے کے طریقے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے بارے میں گرانقدر معلومات حاصل ہوتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے واضح قوانین کی ضرورت ہے تاکہ جانوروں میں انسانی جینز داخل کرنے والے تجربات کو ایک حد کے اندر رکھا جاسکے اور ان پر نظر رکھی جاسکے۔

سائسندانوں کے خیال میں کسی بندر میں انسانی دماغ کے خلیے داخل کرکے ایک بولنے والا بن مانس بنانا تو شاید محض ایک سائنسی خواب ہی رہے لیکن دنیا بھر میں اس میدان میں تحقیق کرنے والے مستقلاﹰ اس طرح کے تجربات میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔

چین کے سائنسدان انسانی سٹیم سیل ایک بکری میں داخل کرچکے ہیں جبکہ امریکی محققین ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس میں ایک چوہے میں انسانی دماغ کے خلیے داخل کیے جانے ہیں، تاہم ابھی تک انہوں نے اس تجربے پر عملدرآمد نہیں کیا۔

جینیاتی طور پر تبدیل شدہ چوہے کینسر جیسے امراض کی تحقیق کا مرکزی حصہ ہیں

جینیاتی طور پر تبدیل شدہ چوہے کینسر جیسے امراض کی تحقیق کا مرکزی حصہ ہیں

ہیومنائزڈ اینیمل بانجھ پن کے علاج کے لیے ہونے والی تحقیق کے لیے بھی استعمال کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ سٹیم سیل کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق میں بھی انہیں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

برطانیہ کی اکیڈمی برائے میڈیکل سائنسز کی طرف سے جانوروں میں انسانی اجزاء داخل کرنے کے حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسی متنازعہ تحقیق کی نگرانی انتہائی ضروری ہے۔

جانوروں میں کسی حد تک انسانی خواص کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انسانی ڈی این اے متعارف کرائے گئے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ چوہے کینسر جیسے امراض وغیرہ کے لیے ادویات کی تیاری کے سلسلے میں ہونے والی تحقیق کا مرکزی حصہ ہیں۔

اس رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ حکومت کو اس حوالے سے ماہرین کا ایک قومی ادارہ تشکیل دینا چاہیے، جو جانوروں پر ہونے والی تحقیق کی نگرانی کرے۔ برطانوی وزراء نے اس رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کی تجاویز پر غور کریں گے، کیونکہ اس حوالے سے سائنسدانوں کے علاوہ عوامی تشویش میں بھی اضافہ ہوتا جار ہا ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس