1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انسانی ترقی کے شعبے میں پاکستان پیچھے کیوں؟

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں انسانی ترقی کی شرح گزشتہ برس کے مقابلے میں کم رہی۔ پاکستان میں اقتصادی ترقی صرف امیر لوگوں کے گرد گھومتی ہے اور سرمایہ کاری کے بہتر مواقع بھی انہی کے لیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقی ’’یواین ڈی پی‘‘ کی جانب سے 2015ء کے لیے جاری کی جانے والی انسانی ترقی کی سالانہ رپورٹ بہت سے پاکستانیوں کے لیے شدید تشویش کا باعث بنی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں انسانی ترقی کی شرح گزشتہ برس کے مقابلے میں کم رہی ہے۔ دنیا کے 188 ملکوں میں سے پاکستان کا انسانی ترقی کے حوالے سے 147 واں نمبر ہے۔ پاکستان گزشتہ برس کے مقابلے میں بھی ایک نمبر پیچھے چلا گیا ہے۔

انسانی ترقی کے عالمی جائزے کا آغاز انیس سو نوے میں ایک پاکستانی ماہر معیشت ڈاکٹر محبوب الحق کی سربراہی میں کیا گیا تھا۔ اس جائزے کے مطابق ملکوں کی ترقی کو ان کی اقتصادی ترقی کے ذریعے نہیں بلکہ ان ملکوں میں رہنے والے لوگوں کے میعار زندگی اور لوگوں کی صلاحیتوں کی بناء پر پرکھا جانا چاہیے۔ یہ جائزہ ان ملکوں کے لوگوں کی اوسط عمر، تعلیم ، آمدنی اور معیار زندگی مدنظر رکھ کر تیار کیا جاتا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 15 برس یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں بے روز گاری کی شرح 48 فیصد کے قریب ہے جبکہ ملک میں آٹھ کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ افراد غربت کا شکار ہیں۔

پاکستان انسانی ترقی کے شعبے میں بہت پیچھے کیوں ہے؟ اس سوال کے جواب میں بہت سے اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ دہشت گردی کی جنگ، قدرتی آفات، بھاری قرضوں کے بوجھ اور محصولات کی وصولیوں میں کمی کی وجہ سے پاکستان انسانی ترقی کے لیے درکار رقوم خرچ کرنے کے قابل ہی نہیں تھا۔

اقتصادی امور کے ایک پاکستانی ماہر منصور احمد بتاتے ہیں کہ پاکستان اپنی آمدن کا بڑا حصہ انسانی ترقی کے شعبوں پر خرچ کرنے سے قاصر رہا ہے۔ ترجیحات کے درست نہ ہونے اور کرپشن کی وجہ سے پاکستان اپنے ہیومن ریسورسز کو بہتر نہیں بنا سکا، اس لیے صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں یہ اپنے ہمسایہ ملکوں میں بھی پیچھے ہے۔

پاکستان کے ایک ممتاز ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اکمل حسین کی رائے میں پاکستان میں اقتصادی ترقی صرف امیر لوگوں کے گرد گھومتی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’پاکستان میں امیر لوگوں کو ہی صحت اور تعلیم کی معیاری سہولتیں ملتی ہیں، امیروں کو ہی نوکریاں ملتی ہیں اور امیروں کو ہی سرمایہ کاری کے بہتر مواقع میسر آتے ہیں۔ اقتصادی ترقی کی غیر مساوی تقسیم کی وجہ سے آزادی کے 68 برسوں بعد بھی 40 فیصد پاکستانی ایسے ہیں، جن کو روزانہ 2100 کیلوریز یا پیٹ بھر کر کھانا نہیں مل رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے دی جانے والی پبلک سروسز اسی ایلیٹ کو مل رہی ہیں، جو ٹیکس بھی نہیں دیتے۔ اس پر ستم یہ کہ بڑے پیمانے پر پھیل جانے والی کرپشن نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر اکمل کے مطابق پاکستان میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد کو نہ درست خوراک مل رہی ہے، نہ پینے کا صاف پانی میسر ہے اور نہ ہی انہیں دیگر ضروری سہولتیں حاصل ہو رہی ہیں۔ ان کے بقول غریب لوگوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے پروگراموں کے ذریعے جو امداد بھی ملتی ہے اس کا بھی ٹریکل ڈاؤن امپیکٹ نہیں آتا۔ ان کے مطابق ’ایلیٹ بیسڈ گروتھ سسٹم‘ بدل کر ’براڈ بیسڈ گروتھ سسٹم‘ متعارف کروائے جانے کی شدید ضرورت ہے، ’’جب تک مساوات والی معاشی ترقی نہیں ہوگی، انصاف پر مبنی معاشی پالیسیاں نہیں بنیں گی۔ معاشی سہولتوں کا رخ خاص طبقوں کی طرف رہے گا۔ پاکستانی لوگوں کا میعار زندگی بہتر نہیں ہو سکے گا۔ لوگ غریب سے غریب تر ہوتے جائیں گے اور ان کے دہشت گردی کی طرف مائل ہونے کے امکانات موجود رہیں گے۔‘‘

کیا اقتصادی رہداری کے نام پر چین سے آنے والے 46 ارب ڈالر کے منصوبے پاکستانیوں کی زندگیوں کو نہیں بدل سکیں گے؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر اکمل حسین کا کہنا تھا، ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ 46 ارب ڈالر کوئی پلیٹ میں رکھ کر ہمیں نہیں دے رہا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان ترقیاتی رقوم کو معاشی ترقی میں ڈھالنے کا کوئی مناسب منصوبہ ہمیں دکھائی نہیں دے رہا۔ سڑک تو محض ایک سڑک ہوتی ہے، کیا کوئی سوچ رہا ہے کہ ہم اس سڑک کے ذریعے کیا امپورٹ کریں گے؟ کیا ایکسپورٹ کریں گے؟ کیا اس سڑک کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہم اپنے نوجوانوں کو فنی تربیت دے رہے ہیں؟ کیا ہم اس سڑک کے اطراف کاٹیج انڈسٹری لگانے اور فارم ٹو مارکیٹ روڈ نیٹ ورک بنانے کا کوئی منصوبہ بنا رہے ہیں؟ اگر ان سوالوں کا جواب ناں میں ہیں تو پھر اس منصوبے کا انسانی ترقی کے شعبے پر جو اثر ہوگا اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔‘‘

ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر اکمل حسین نے بتایا کہ چائنہ کی دنیا کے ساتھ تجارت 200 ارب ڈالر کی ہے اور اگر اس ٹریڈ کا پانچ فی صد بھی وہ اس سڑک پر لے آئے تو یہ 20 ارب ڈالر کی تجارت ہوگی۔ کیا پاکستان اس کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ پاکستان کو ویسٹ ایسٹ کوریڈور کی بھی ضرورت ہے یعنی ایک ایسی سڑک جو ساوتھ ایسٹ ایشیا، ایران، پاکستان اور بھارت سے ہوتی ہوئی میانمار تک جائے اور اس سے بھی بڑی ضرورت یہ ہے کہ پاکستان ترقی کے ان مواقع سے فائدہ اٹھائے اور اس طرح ملنے والے فوائد کوغریب عوام کی حالت بدلنے کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔

ڈاکٹر اکمل حسین کا کہنا ہے کہ مغربی معاشرے اپنے محروم طبقات کا خیال رکھتے ہیں، انہیں رعایتیں دیتے ہیں۔ ان کے بقول جرمنی ایک عمدہ مثال ہے، جرمنی نے صحت اورتعلیم کی سہولتیں اپنے شہریوں کو دے کر انسانی ترقی کے انڈیکیٹرز کو بہتر بنایا اور اپنی لیبر فورس کو تربیت اور سہولتیں فراہم کر کے ہی ترقی کی منازل طے کیں۔

اس رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے ملکوں میں سری لنکا 73ویں، بھارت 130ویں، بنگلہ دیش 142ویں، نیپال 145ویں اور افغانستان 171ویں نمبر پر ہے۔ اس رپورٹ میں ناروے، آسٹریلیا اور سوئٹزرلینڈ بالترتیب پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔