1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انسانی اعضاء کی اسمگلنگ، مصری حکام نے کئی افراد کو گرفتار کر لیا

مصری حکام نے منگل کے روز انسانی اعضاء کی اسمگلنگ کرنے والے ایک نیٹ ورک کے پچیس کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ ان میں یونی ورسٹیوں کے پروفیسر اور ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔

مصر کی ایڈمنسٹریٹو کنٹرول اتھارٹی نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’آج (منگل) کی صبح انسانی اعضاء کی تجارت کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے بین الاقوامی نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا گیا۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا، ’’اس نیٹ ورک میں مصری اور عرب باشندے بعض شہریوں کے مشکل مالی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے اعضاء خرید کر انہیں بھاری رقوم میں فروخت کر رہے تھے۔‘‘

حکام کے مطابق انہوں نے اس نیٹ ورک سے منسلک پچیس افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان میں جامعات کے پروفیسر، ڈاکٹر، میڈیکل کارکن، طبی اداروں کے مالکان اور بروکرز شامل ہیں۔

گرفتار کیے جانے والے افراد کے پاس سے لاکھوں ڈالرز اور سونا ملا ہے۔ حکام نے دس میڈیکل سینٹرز اور لیبارٹریوں پر چھاپے مارے جہاں سے انہیں وہ دستاویزات ملیں جن پر انسانی اعضاء کی تجارت کے بارے میں معلومات درج تھیں۔

مصر کی پارلیمان نے سن دو ہزار دس میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت ملک میں انسانی اعضاء کی کمرشل سطح پر ٹرانسپلانٹ یا پیوند کاری ممنوع ہے۔ یہ ٹرانسپلانٹ مصری اور غیر ملکیوں کے درمیان نہیں کی جا سکتی، سوائے اس صورت کے کہ وہ میاں بیوی ہوں۔

سن دو ہزار دس میں عالمی ادارہ برائے صحت کے کوآرڈینیٹر لوک نوئیل کا کہنا تھا کہ مصر انسانی اعضاء کی غیر قانونی تجارت کے حوالے سے دنیا کے پانچ بڑے ملکوں میں شامل تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق ہر برس سینکڑوں غریب مصری شہری حالات سے تنگ آ کر اپنے گردے اور جگر فروخت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔