1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

انسانی اعضاء: امریکی ڈاکٹروں نے خوراک کی مصنوعی نالی بنا لی

امریکی ڈاکٹروں نے عطیہ کردہ جلد کے ریشوں اور دھاتی ’سٹَینٹس‘ کی مدد سے خوراک کی ایک نئی مصنوعی بنا لی ہے۔ تجربہ گاہوں میں انسانوں کے مصنوعی اعضاء بنانے کی کوششوں میں اس نئی پیشرفت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

Symbolbild Herzoperation

ایک تار سے معدے اور غذائی نالی کے اوپری حصے کو ملایا گیا، جو منہ تک آتا ہے

خبر رساں ادارے اے پی نے بتایا ہے کہ امریکی ڈاکٹروں کی طرف سے بنائی گئی یہ نئی غذائی نالی عمدگی سے کام کرنے کے قابل ہے۔ ڈاکٹروں اور مریض کے مطابق یہ نیا تجربہ کامیاب ثابت ہوا ہے۔ ڈاکٹروں نے یہ غذائی نالی ایک ایسے چوبیس سالہ نوجوان کے لیے بنائی، جو سات برس قبل ایک کار حادثے کے نتیجے میں مفلوج ہو گیا تھا۔ اس کی غذائی نالی بھی ناکارہ ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے اسے ایک ٹیوب کے ذریعے خوارک دی جاتی تھی۔

DW.COM

پہلے ڈاکٹروں نے ایک ٹیوب بنائی، جسے اس کے منہ اور نظام انہضام سے جوڑا جانا تھا لیکن شدید چوٹوں کی وجہ سے اس کی پیوند کاری ممکن نہ ہو سکی تھی۔ تب ڈاکٹروں نے سوچا کہ ایک نیا طریقہ اختیار کیا جائے۔ ایک کتے پر تجربے کے دوران ڈاکٹروں نے غذائی نالی کے اوپری حصے کی کامیاب مرمت کی تھی اور اب وہ اس انسان پر اس عمل کی آزمائش کرنا چاہتے تھے۔ یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی منظوری کے بعد ڈاکٹر اس عمل کو انسان پر آزمانے کے لیے تیار ہو گئے۔

زیورخ کی یونیورسٹی برائے ’ری جنریٹیو میڈیسن‘ سے وابستہ ڈاکٹر سیمون ہورسٹرپ نے اے پی کو بتایا کہ یہ ایک نیا اور قابل ستائش تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتائج واضح کرتے ہیں کہ اگر بنیادی ڈھانچے کی پیوند کاری کی جائے تو انسانی جسم میں کچھ خاص اعضاء دوبارہ بھی نشوونما پا سکتے ہیں۔

جس مریض پر یہ کامیاب تجربہ کیا گیا ہے، اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹروں نے اینڈوسکوپ کی مدد سے غذائی نالی کی پیوند کاری کی۔ ایک تار سے اس کے معدے اور غذائی نالی کے اوپری حصے کو ملایا گیا، جو اس کے منہ تک آتا ہے۔

اسی عمل میں تین سٹَینٹس بھی استعمال کیے گئے۔ غذائی نالی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے جلد کے ریشوں کو اس نالی کے ارد گرد لگایا گیا۔ پھر ان ریشوں میں ایک خاص قسم کی رطوبت کا چھڑکاؤ کیا گیا۔ یہ رطوبت اسی مریض کے خون سے تیار کی گئی تھی اور اس کا مقصد اسٹیم سیلز کو متوجہ کرنا تھا تاکہ اندرونی زخموں کے مندمل ہونے کا قدرتی عمل شروع ہو سکے۔

اس کامیاب عمل کے بعد مریض کھانے اور پینے کے قابل ہو گیا۔ ڈاکٹر تقریباﹰ تین ماہ بعد سٹَینٹس stents کو نکالنا چاہتے تھے لیکن مریض نے انکار کر دیا کیونکہ اسے خوف تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ دوبارہ طبی مسائل کا شکار ہو جائے اور کچھ کھا پی نہ سکے۔ تاہم آخر کار چار برس بعد ڈاکٹروں کو اس کے سٹَینٹس نکالنا پڑے کیونکہ ایک سٹَینٹ میں کچھ پیچیدگی پیدا ہو چکی تھی۔

04.12.2013 DW Fit und gesund Speiseröhre 2

مصنوعی اعضاء بنانے کی کوششوں میں اس نئی پیشرفت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے

Stents نکالنے کے ایک برس بعد ڈاکٹروں نے مشاہدہ کیا کہ اسی مریض کی غذائی نالی میں تب قدرتی طریقے سے مثبت نشوونما ہونے لگی تھی۔ ڈاکٹروں کے مطابق اب اس مریض کی غذائی نالی بالکل نارمل ہو چکی ہے۔ اس مریض کو اب تک کوئی شکایت نہیں ہوئی۔

امریکی سرجن ڈاکٹر کولوِنڈر ڈوآ کے بقول اگرچہ اس سرجری سے ایک مریض مکمل طور پر شفایاب ہو چکا ہے تاہم اس طریقہ کار کے ابھی مزید تجربات ضروری ہیں۔ ڈاکٹر ڈوآ نے ہی اس مریض کی سرجری کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اس طریقہ کار کے اثرات کو جانچنے کے لیے اس کے مزید جانوروں اور انسانوں پر تجربات کرنا ہوں گے اور کامیابی کی صورت میں ہی اسے ایک کامیاب طریقہ کار قرار دیا جا سکے گا۔