1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انسانی اسمگلنگ: ڈیڑھ سو نیپالی بچے بھارت میں بازیاب

قانون نافذ کرنے والے بھارتی اداروں نے 160 کے قریب بچے انسانی اسمگلروں سے بازیاب کروا لیے ہیں۔ ایک سال پہلے کے نیپالی زلزلے کے بعد امدادی اداروں نے بھی اس حوالے سے بھارت اور نیپالی حکومتوں کو خبردار رہنے کی تلقین کی تھی۔

بھارت کے ایک سینیئر حکومتی اہلکار کے مطابق گزشتہ برس اپریل کے بعد نیپال سے بچے بھارت لا کر فروخت کرنے کے گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہونے کے شبے میں پچاس سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے اور اُن کے حوالے سے مکمل تفتیشی عمل جاری ہے۔ انسانی اسمگلروں کے قبضے سے بازیاب کروائے گئے 160 بچے واپس نیپالی حکام کے توسط سے اُن کے خاندانوں تک پہنچائے جا چکے ہیں۔

بھارتی ریاست اتر پردیش کے سیکرٹری داخلہ کمل سکسینا نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا کہ جس دن نیپال میں زلزلہ آیا تو انہوں نے ریاست کے تمام ضلعی مجسٹریٹوں کو ایک خط تحریر کیا تھا کہ وہ چوکنا ہو جائیں کیونکہ انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے گروہ اب نیپال سے ممکنہ طور پر زلزلے سے متاثرہ خاندانوں کے بچوں کی اسمگلنگ شروع کر سکتے ہیں۔

سکیسینا نے نیپالی سرحد کے ساتھ منسلک سات اضلاع کے پولیس سربراہان کو ہوشیار رہنے کی تلقین کی تھی۔ اتر پردیش کے سیکرٹری داخلہ نے بعد میں تمام متعلقہ محکموں کے انچارج افسران کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس میں بھی ممکنہ صورت حال کے حوالے سے اپنے خدشات بیان کیےتھے۔ اتر پردیش کے سیکرٹری داخلہ کے مطابق سکیورٹی سخت کرنے کے بعد ایک جوڑے سے پندرہ بچے برآمد ضرور ہوئے لیکن بچوں نے جوڑے کو اپنا ماں باپ قرار دے دیا تھا۔ بعد میں اسی جوڑے نے فی بچہ پندرہ سو بھارتی روپوں یا بائیس امریکی ڈالر کے عوض تمام بچے فروخت کر دیے تھے۔

Frauenhandel in Indien

جسم فروشی پر مجبور نیپالی خاتون کی نگرانی سائیکل والا کر رہا ہے

نیپال سے بھارت میں اوسطاً بارہ ہزار نیپالی بچوں کو سالانہ بنیادوں پر اسمگل کیا جاتا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی اسمگلنگ کا یہ جائزہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔ انسانی اسمگلنگ کے خلاف آواز بلند کرنے والے کارکنوں نے زلزلے کے بعد سے ہی کہنا شروع کر دیا تھا کہ اسمگلر متاثرہ خاندانوں سے مختلف حیلے بہانوں سے بچوں کو حاصل کرنے کی کوششیں شروع کر سکتے ہیں۔

ان بچوں کو حاصل کرنے کے لیے اسمگلر متاثرہ خاندانوں کو بھارت میں ملازمت اور پُرکشش ماہانہ تنخواہوں کا لالچ دیتے ہیں۔ حقیقت بالکل اِس کے الٹ ہے۔ لڑکیوں اور خواتین کو براہ راست جسم فروشی کے دھندے میں دھکیلا نہیں جاتا بلکہ وہ گھروں میں کام کرنے والی ملازماؤں کے طور پر بھارت اور دوسرے ملکوں کو بیچ دی جاتی ہیں اور لڑکے بیگار کیمپوں کے نگرانوں کی تحویل میں دے دیے جاتے ہیں۔

سکسینا نے بتایا کہ نیپالی لڑکوں، لڑکیوں اور خواتین کی جبری فروخت کو روکنے کے لیے کم از کم چار ہزار پولیس افسران اور اہلکاروں کو تربیت دے کر انہیں اِس صورت حال بابت معلومات فراہم کرتے ہوئے ملزمان تک پہنچنے کے لیے طریقہٴ کار وضع کیا گیا۔ اِس طریقے میں اسمگلنگ کے لیے استعمال کیے جانے والے راستوں کی خاص طور پر کڑی نگرانی کو اہم قرار دیا گیا ہے۔