1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

انسانی اسمگلروں کے چنگل ميں پھنسے پاکستانی کيسے رہا ہوئے؟

يونانی حکام نے انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شبے میں کم از کم نو افراد کو حراست ميں لے ليا ہے۔ ان ميں سے چند ملزمان نے ايک درجن سے زيادہ پاکستانی پناہ گزينوں کو يرغمال بنا رکھا تھا۔

يونان کے شمالی حصے سے آج بروز اتوار گرفتار کيے گئے انسانوں کے نو مشتبہ اسمگلروں ميں سے تين نے سولہ پاکستانی تارکین وطن کو يرغمال بنا رکھا تھا۔ اطلاعات کے مطابق انسانوں کے ان اسمگلروں نے جن پاکستانی پناہ گزينوں کو يرغمال بنايا، ان ميں تين نابالغ بچے بھی شامل تھے۔

ايک مقامی پوليس آفيسر نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتايا کہ گرفتار ہونے والے ان مبینہ اسمگلروں نے پناہ گزینوں کو تھيسا لونيکی کے بندر گاہی شہر ميں ايک مقام پر يرغمال بنا کر رکھا ہوا تھا۔ اور ان کی رہائی يا مغربی يورپ آگے بڑھنے کے ليے ان سے ڈھائی ہزار يورو کا مطالبہ کيا تھا۔

اتوار کو مسيحی تہوار ايسٹر کے موقع پر کی گئی کارروائيوں ميں چھ ديگر اسمگلروں کو البانيا کی سرحد کے قريب سے بھی گرفتار کيا گيا۔ حکام کے مطابق زير حراست ملزمان پر شبہ ہے کہ وہ  انسانوں کی اسمگلنگ ميں ملوث ايک کافی بڑے بين الاقوامی گروہ کا حصہ ہيں۔

گزشتہ برس مارچ ميں بلقان کے ممالک سے گزرنے والے روٹ کی بندش کے بعد سے قريب باسٹھ ہزار پناہ گزين يونان ميں مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہيں۔

DW.COM