1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انسانیت کا مستقبل جنگ میں نہیں ہے

میونخ میں ہونے والی امن کانفرنس میں دنیا بھر سے 150 مذہبی نمائندے شریک ہوئے۔ اس تین روزہ کانفرنس کا عنوان ’مل جل کر رہنے کے ہمارے ارادے‘ رکھا گیا تھا۔

default

گیارہ سے تیرہ ستمبر تک جرمنی کے شہر میونخ میں ایک بین الاقوامی امن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا کے تمام مذاہب کے نمائندے شریک تھے۔ گیارہ ستمبر سن 2001 کے دہشتگردانہ واقعات کے دس برس مکمل ہونے پر اس کانفرس میں شریک پانچ ہزار افراد نے اس بات پر غور کیا کہ کہ دنیا میں کس طرح امن قائم کیا جا سکتا ہے۔

اس کانفرنس کے اختتام پر تمام مذاہب کے نمائندوں کی طرف سے امن کے قیام کے لیے ایک اپیل بھی جاری کی گئی ہے۔ اس جاری کردہ اپیل میں کہا گیا:

Friedenstreffen München 2011 Religion

اس کانفرنس کا پہلی مرتبہ انعقاد سن 1986 میں کیا گیا تھا

’’دس سال سے جنون، تشدد، دہشت گردی اور پاگل پن کے جس کلچر نے جنم لیا ہے ہم اس کے خلاف ہیں اور ایک نئے دور کے آغاز کی خواہش کرتے ہیں۔ انسانیت کا مستقبل جنگ میں نہیں ہے۔ جو لوگ قتل اور نفرت پھیلانے کے لیے خدا کا نام استعمال کرتے ہیں، وہ اس نام کی توہین کر رہے ہیں۔ یہاں میونخ میں ہم نے مکالمت اور دوستی کی بات کی ہے۔ مذاکرات کے ذریعے ہم کئی دہائیوں تک امن کا قیام ممکن بنا سکتے ہیں۔‘‘

اس کانفرنس کا پہلی مرتبہ انعقاد سن 1986 میں کیا گیا تھا۔ آج سے ٹھیک پچیس برس پہلے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پاپ جان پال دوئم نے دنیا کے تمام مذاہب کے نمائندوں کو امن کانفرنس میں شرکت کے لیے اطالوی شہر اسیزی (Assisi) میں آنے کی دعوت دی تھی۔ اُس پہلی کانفرس میں اسلام، مسیحیت، بدھ مت، ہندو مت اور یہودی مذہب سمیت کئی دیگر مذاہب کے سرکردہ نمائندے شریک ہوئے تھے۔ اب ہر سال یورپ کے کسی بڑے شہر میں اس کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب اس طرح کی امن کانفرسوں کے انعقاد کی روایت اب کئی دوسرے براعظموں میں بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ افریقہ سمیت فلسطین اور کئی ایک ایشائی ممالک میں بھی اسی طرح کی کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت : عابد حسین

DW.COM