انسانوں کے تاجروں کا نشانہ مہاجر خواتین اور معصوم بچے | مہاجرین کا بحران | DW | 20.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

انسانوں کے تاجروں کا نشانہ مہاجر خواتین اور معصوم بچے

یورپی یونین کے مطابق انسانوں کی تجارت کرنے والے گروہ مہاجرین کے بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خواتین اور معصوم بچوں کو جنسی دھندوں میں استعمال کر رہے ہیں اور ایسے متاثرین میں نائجیریا کی لڑکیاں اور خواتین سرفہرست ہیں۔

یورپی یونین کی جانب سے انسانوں کی تجارت کرنے والے گروہوں سے متعلق جمعرات کے روز جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایسے جرائم پیشہ عناصر کا اصل ہدف بچے ہیں، کیوں کہ انہیں مشقت کے کاموں کے لیے بھرتی کرنا اور مہاجرین میں شامل کرا کے دیگر مقامات کی طرف منتقل کرنا آسان ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ان بچوں کو طویل فاصلے تک چوں کہ تنہا سفر کرنا پڑتا ہے، اس لیے یہ کئی طرح کے جنسی اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لیبیا کے ذریعے نائجیریا سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں اور خواتین کو بھی مہاجرین میں شامل کرا کے یورپ کی جانب بھیجا جا رہا ہے اور اس رجحان میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

Griechenland Mazedonien Flüchtlinge bei Idomeni

انسانوں کے تاجر مہاجرین کے بحران سے فائدہ اٹھا کر بچوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں

اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس جنوری تا ستمبر نائجیریا سے تعلق رکھنے والی چار ہزار تین سو ستر سے زائد لڑکیوں اور خواتین نے یورپ کا رخ کیا، جب کہ اس سے ایک برس قبل اسی عرصے میں یہ تعداد ایک ہزار آٹھ رہی تھی۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت IOM کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ان خواتین میں سے 80 فیصد انسانی تجارت کا شکار ہوئیں۔ یورپی کمیشن نے اس صورت حال کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانوں کی اسمگلنگ اور تجارت کی روک تھام کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

گزشتہ برس ایک ملین سے زائد مہاجرین نے یورپی یونین کی رکن ریاستوں کا رخ کیا، جن میں 88 ہزار سے زائد تنہا بچے بھی شامل تھے، جو یورپ پہنچے تھے۔ یورپی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق، ’’بچے انسانوں کی تجارت کرنے والے گروہوں کا سب سے بڑا اور آسان شکار ہوتے ہیں۔‘‘

رپورٹ کے مطابق گو کہ بچوں کی تجارت اور مہاجرین کا بحران دو علیحدہ علیحدہ مسئلے ہیں، تاہم مہاجرین کے بحران کے تناظر میں بچوں کی تجارت میں اضافے کے واضح رجحانات سامنے آئے ہیں۔

سن 2013 سے 2014 تک سولہ ہزار خواتین، مرد اور بچے انسانی تجارت کے متاثرین کے طور پر رجسٹر کیے گئے تھے، تاہم گزشتہ برس اس تعداد میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مہاجرین کے بہاؤ کی وجہ سے اس وقت اس صورت حال کے حوالے سے درست اعداد و شمار جمع کیے جانا آسان نہیں، تاہم یہ بات واضح ہے کہ انسانی تجارت کا شکار افراد میں سے 97 فیصد کو جنسی استحصال کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جب کہ ان افراد کو جبری مشقت کا سامنا بھی ہے۔

ملتے جلتے مندرجات