1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف کئی جرمن صوبوں میں کامیاب چھاپے

جرمن پولیس نے انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے ایک منظم گروہ کے ارکان کے گھروں، دفاتر اور دکانوں پر مارے جانے والے چھاپوں کے دوران کم از کم دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ یہ چھاپے پانچ مختلف جرمن ‌صوبوں میں مارے گئے۔

Menschenhandel Europa

جرائم پیشہ افراد فضائی، سمندری اور زمینی سبھی راستوں سے تارکین وطن کو یورپ میں اسمگل کرتے ہیں

وفاقی دارالحکومت برلن سے جمعرات دس مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق پولیس نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے ملزمان دو ایسے مرد ہیں، جن میں سے ایک کی عمر 36 برس اور دوسرے کی 51 برس ہے۔ ان ملزمان پر الزام ہے کہ وہ ’انسانوں کی پیشہ ورانہ اسمگلنگ‘ میں ملوث ہیں۔

ان دونوں ملزمان کو بدھ نو مارچ کے روز اسمگلروں کے اس مشتبہ گروہ کے ارکان کے گھروں، دفاتر اور کاروباری اداروں پر بیک وقت مارے گئے چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس کارروائی میں، جو وفاقی دارالحکومت اور شہری ریاست برلن کے علاوہ چار دیگر جرمن صوبوں میں بھی کی گئی، بیسیوں سکیورٹی اہلکاروں نے حصہ لیا۔

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث اس پیشہ ور گروہ سے تعلق رکھنے والے 17 ایسے افراد سے پوچھ گچھ بھی کی جا رہی ہے، جن پر شبہ ہے کہ انہوں نے 24 مختلف واقعات میں بہت سے غیر ملکیوں کو جرمنی اسمگل کیا۔ ان کے علاوہ 11 ایسے غیر ملکیوں سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے، جو جرمنی میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔

جرمنی کے مشرقی صوبے سیکسنی انہالٹ میں پولیس نے بتایا کہ اس گروہ کے ارکان کے خلاف اس بارے میں بھی قوی شبہات پائے جاتے ہیں کہ وہ ایسی دکھاوے کی شادیوں کے انتظامات بھی کرتا تھا، جن کا مقصد تارکین وطن کو دوسرے ملکوں سے جرمنی لانا ہوتا تھا۔

Deutschland Bundespolizei Schleuserkriminalität

یہ چھاپے پانچ مختلف جرمن صوبوں میں مارے گئے

پولیس کے مطابق یہ جرائم پیشہ گروہ اپنے اپنے ملکوں سے ترک وطن کر کے جرمنی آنے کے خواہش مند غیر ملکیوں سے ایسی ہر نام نہاد شادی کے لیے 20 ہزار یورو یا 22 ہزار امریکی ڈالر تک کے برابر رقم وصول کرتا تھا۔

جرمن پریس ایجنسی نے اپنی رپورٹوں میں مزید لکھا ہے کہ پانچ وفاقی ریاستوں میں مارے گئے ان چھاپوں کے دوران پولیس نے ملزمان کے قبضے سے متعدد موبائل ٹیلی فون، نقدی کی صورت میں آٹھ ہزار یورو اور کئی جعلی دستاویزات بھی برآمد کر لیں۔

ملزمان کے خلاف ملنے والے دستاویزی شواہد میں شادیوں کے جعلی سرٹیفیکیٹ، رقوم کی منتقلی کی رسیدیں اور ایسے کاغذات بھی شامل ہیں، جن میں جرمنی لائے جانے والے افراد کے فضائی سفر تک کی تفصیلات درج ہیں۔

DW.COM