1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

انسانوں میں کروڑوں سال پرانے حیوانی وائرس کی باقیات

برطانوی سائنسی جریدے نیچر میں شائع شدہ ایک نئی تحقیق کے مطابق عام انسان اپنے DNA کے جنوم میں ایک ایسے قدیم حیوانی وائرس کی باقیات لئے ہوئے ہیں جس نے 40 ملین سال قبل زمین پر انسانی آبادی کو متاثر کیا تھا۔

default

اس نئی تحقیق کے مطابق کم ازکم 40 ملین سال پرانے اس حیوانی وائرس کی جو باقیات جدید دور کے انسانوں کے جنوم میں پائی جاتی ہیں اسے بورنا وائرس (Borna-virus) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ وائرس اپنی انتہائی نقصان دہ حالت میں انسانی دماغ کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے اور اس کی اولین شناخت 1970 کے عشرے میں کی گئی تھی۔ جاپان کی اوساکا یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے، جس کی سربراہی Keizo Tomonaga کر رہے تھے، قدیم ممالیہ جانوروں کے DNA کا موزانہ ڈی این اے کی ان اقسام سے کیا جو جدید دور کے انسانوں، بندروں، یاتھیوں اور چوہوں وغیرہ میں پائی جاتی ہیں۔ اس تحقیق کا مقصد یہ پتہ لگانا تھا کہ DNA کی ان جملہ اقسام میں بورنا وائرس کی باقیات اپنی مختلف حالتوں میں ایک دوسرے سے کتنی مختلف ہیں۔

DNS Modell, Genetik

انسانی DNA کا ایک مولیکیولر ماڈل

اس ریسرچ کے دوران ماہرین کو انسانی جنوم میں کروڑوں برس پرانے بورنا وائرس کی ایسی باقیات بھی ملیں، جن میں دو جینز نہ صرف ایک دوسرے سے بہت مماثلت رکھتے تھے بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ ابھی تک فعال بھی ہوں۔

تاحال البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ جینز کس طرح کا کام کرتے ہیں۔ اس تحقیق کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اب تک وائرس کی صرف ایسی اقسام ہی دریافت کی جا سکی تھیں جو ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں میں کروڑوں سال پہلے منتقل ہوئی تھیں اور جنہیں Retrovirus کہتے ہیں۔

یہ وائرس اپنے میزبان جاندار کے خلیاتی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہوئے اپنی افزائش کو ممکن بناتا ہے۔ اس ریٹرووائرس یا اس کی مختلف اقسام کے بارے میں سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ کسی بھی انسانی خلیے میں تمام تر حیاتیاتی معلومات میں سےآٹھ فیصد تک کے ذمہ دار یہی وائرس ہوتے ہیں۔

ریٹرووائرس کے برعکس بورنا وائرس کا طریقہ کار قدرے مختلف ہے۔ یہ وائرس جن خلیوں میں پایا جاتا ہے وہاں وہ افزائش کے لیے متاثرہ cells کے مرکزے یا نیوکلیس کو استعمال میں لاتا ہے۔ بورنا وائرس کے بارے میں ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس کا نام ماضی کے اس جرمن شہر بورنا کی نسبت سے رکھا گیا تھا جہاں 1885 میں ایک فوجی رجمنٹ میں شامل تمام گھوڑے ایک ایسی پراسرار بیماری کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے تھے جسے heated head یا ’گرم دماغ‘ کا نام دیا گیا تھا۔

بعد میں کی جانے والی تحقیق سے اس وائرس کی موجودگی بھیڑوں، بلیوں اور مویشیوں کے علاوہ شتر مرغ تک میں بھی ثابت ہو گئی تھی حالانکہ یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے کہ 125سال پہلے گھوڑوں سے یہ وائرس دیگر جانوروں میں کس طرح منتقل ہوا تھا۔ برطانوی تحقیقی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق کی روشنی میں ماہرین کو یقین ہے کہ بورنا وائرس کے انسانی خلیوں کے جینیاتی سفر میں ارتقائی کردار سے متعلق اب ایک شدید بحث شروع ہو جائے گی۔ اب تک بورنا وائرس کی وجہ سے انسانوں میں کسی بیماری کے پھیلاؤ سے متعلق کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM