1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’انتہا پسندانہ مفروضات کا خاتمہ ضروری ہے‘

انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کو فروغ دینے والے مفروضات کو ترک کرنا بھی ضروری ہے۔ وجاہت مسعود کے مطابق ریاستی سطح پر مذہبی بیانیے میں تبدیلی کی جھلک نظر آ رہی ہے۔

آڈیو سنیے 04:15

وجاہت مسعود اور پروفیسر اشتیاق احمد سے گفتگو

سعودی عرب اور امریکا نے پاکستانی جنگجو گروہ لشکر طیبہ کو نشانہ بناتے ہوئے مشترکہ طور پر تازہ پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مبصرین نے اس اقدام کو اہم قرار دیتے ہوئے اس مسئلے کو جڑ سے اکھاڑنے پر زور دیا ہے۔ امریکی وزارت مالیات کے مطابق لشکر طیبہ سے وابستگی کی وجہ سے چار افراد اور دو تنظیموں کو پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے اس جنگجو گروہ کو مالی طور پر نقصان پہنچانے کی خاطر یہ تازہ اقدام کیا گیا ہے۔

DW.COM

پاکستان کے معروف تجزیہ نگار اور صحافی وجاہت مسعود نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی گروہ پر عائد کی جانے والی عالمی پابندیوں کے فوائد کچھ زیادہ نہیں ہوتے بلکہ اس کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ حکومتوں کو احساس دلایا جائے کہ دہشت گرد گروہوں یا انتہا پسندوں کے بارے میں عالمی رائے کیا ہے تاکہ اس تناظر میں ریاستیں اور حکومتیں اپنے طور پر ان کے خلاف اقدامات کرنے پر مجبور ہو سکیں۔

وجاہت مسعود کے بقول پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں میں بالخصوص عوامی سطح پر مذہبی جماعتوں اور گروہوں کی پسندیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاہم ابھی کچھ ریاستی عناصر میں انتہا پسندی کے جراثیم موجود ہیں، جن کو ختم کیے بغیر مطلوبہ اہداف کا حصول مشکل ہو گا۔

پاکستانی شہر لاہور کی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اور LUMS یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر، مصنف اور تجزیہ نگار اشتیاق احمد کا بھی کہنا ہے کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے بہت زیادہ فعال ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کا ایجنڈا تباہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی شعبے میں اصلاحات ضروری ہیں کیونکہ نفرت آمیز خیالات کے پرچار اور جنگوں کی عظمت بیان کرنے سے معاملات مزید خراب ہو جائیں گے۔

پاکستان میں لشکر طیبہ کے علاوہ جماعت الدعوۃ اور دیگر کئی ایسی تنظیموں کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہے، جو انتہا پسندی پر مبنی خیالات کا پرچار کرتی ہیں۔ حکومت نے حالیہ عرصے میں ایسی جماعتوں اور ان کے حامیوں کے خلاف ایکشن بھی لیا ہے۔ بالخصوص ممتاز قادری کی سزائے موت پر عملدرآمد کو انتہا پسندی کے خاتمے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ وجاہت مسعود کے مطابق انتہا پسندانہ عناصر کے لیے یہ ایک کھلا پیغام ہے۔

Masood Azhar

جیش محمد کےسربراہ مسعود اظہر



وجاہت مسعود کا اصرار ہے کہ حکومت پاکستان کو سب سے پہلے ان مفروضات کو ترک کرنا ہو گا، جو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی طرف مائل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستان میں ابھی صورتحال واضح نہیں ہے بلکہ دیکھا جائے تو یہ معاملہ ابھی تاریکی میں ہی ہے۔

اشتیاق احمد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستانی فوج ابھی تک اس بارے میں فیصلہ نہیں کر سکی ہے کہ ’ماضی کے نام نہاد مجاہدین کیا اب تک ملک کا سرمایا ہیں یا وہ ایک ذمہ داری بن چکے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال حکومتی اہلکاروں کے لیے ایک مخمصہ بنی ہوئی ہے۔

اشتیاق احمد کا اصرار ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندوں کو کھلا چھوڑنے سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے البتہ کہا کہ حکومت نے کچھ مزاحمت دکھانا شروع کی ہے اور ملکی فوج اور سول حکومت میں ایک تبدیلی نمایاں ہے کہ اب اس صورتحال کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

Audios and videos on the topic