1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’انتہاپسند ہیمبرگ کی دیگر مساجد میں پہنچ چکے ہیں‘

جرمنی کے ایک انٹیلیجنس اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں سے متعلق جرمن شہر ہیمبرگ کی ایک مسجد جن مسلمان انتہاپسندوں کا مرکز تھی، انہوں نے گزشتہ برس اس کے بند ہونے کے بعد دیگر مساجد کا رُخ کر لیا ہے۔

default

اس انٹیلیجنس اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ہیمبرگ کی طیبہ مسجد کے تقریباﹰ بیس سابق نمازی جنوبی ضلع ہاربرگ کی التقویٰ مسجد میں پھر سے اکٹھے ہو چکے ہیں۔

ہیمبرگ اسٹیٹ آفس برائے تحفظ آئین کے سربراہ مُرک نے روئٹرز کو بتایا کہ تقریباﹰ بیس سے تیس دیگر نمازی وسطی ضلع کو استعمال کر رہے ہیں جبکہ چالیس سے پچاس کا تعلق شمالی اور مغربی افریقہ اور دیگر عرب اور ایشیائی ممالک سے ہے۔

 ان کا کہنا تھا: ’’کچھ ہی مہینوں میں ہم نے دیکھا کہ ہیمبرگ کے جنوبی علاقے ہاربرگ کی ایک مسجد میں طیبہ مسجد سے نکلنے والے نصف سے کچھ کم افراد کم و بیش ہفتے میں ایک مرتبہ ضرور ملتے ہیں۔‘‘

مُرک نے کہا ہے کہ ان میں سے بیس تقویٰ مسجد میں ملتے ہیں جبکہ بیس سے تیس کہیں اور اکٹھے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ہم ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ہمیں ایسا کرنا پڑے گا۔ ہمارے خیال میں یہ وہ لوگ ہیں، جو ابھی تک جہاد کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘

انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ ان میں سے بعض وقت کے ساتھ نارمل مسلمان بنتے ہوئے جہادی تعلق سے دستبردار ہو جائیں گے۔

Jahresrückblick Flash-Galerie Deutschland 2010 November

’انتہاپسندوں پر نظر رکھی جا رہی ہے‘

روئٹرز کا کہنا ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد تقویٰ مسجد سے نکلنے والے ایک شخص سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو اس نے انتہائی غصے سے جواب دیا کہ وہاں کچھ غلط نہیں ہو رہا اور وہ اس حوالے سے صحافیوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دے گا۔ روئٹرز کے مطابق اس شخص نے اپنا نام بھی نہیں بتایا۔

ہیمبرگ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس مسجد میں انتہائی قدامت پسند مسلک سلفی کے پیروکاروں کا آنا جانا ہے۔

خیال رہے کہ طیبہ مسجد میں گیارہ ستمبر کے حملوں میں ملوث محمد عطا نے بھی ایک مرتبہ نماز ادا کی تھی۔ ہیمبرگ جرمنی کا اہم بندرگاہی شہر ہے، جس کی ستائیس فیصد آبادی غیرملکیوں یا تارکین وطن کا پس منظر رکھنے والوں پر مشتمل ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / روئٹرز

ادارت: امجد علی

DW.COM