1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انتہاپسند مذہبی لیڈر صوفی محمد پر فرد جرم عائد

پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک نفاذ شریعت کے حوالے سے شہرت پانے والے مذہبی لیڈر مولانا صوفی محمد پر ایک مقامی عدالت نے قتل اور بغاوت جیسے الزامات کی فرد جرم عائد کردی ہے۔

default

سیاحوں کی جنت کے نام سے مشہور وادیٴ سوات کی ایک عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے کی تصدیق وکیل دفاع مجید عادل مجید نے کی ہے۔ وکیل دفاع نے مزید بتایا کہ جس مقدمے کے تحت مولانا صوفی محمد اور ان کے حامیوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، اس میں ان لوگوں نے ایک پولیس اسٹیشن پر دھاوہ بول کر گیارہ افراد کو ہلاک کیا تھا۔ ان ہلاک شدگان میں نو نیم فوجی اہلکاروں کے علاوہ دوسرے دو ہلاک ہونے والے مقامی پولیس سے تعلق رکھتے تھے۔ سوات کےانتہاپسند لیڈر کے خلاف عدالتی کارروائی کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے وکیل مجید عادل مجید نے واضح کیا کہ سرکاری املاک پر حملہ کرنا بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔

مولانا صوفی محمد نے عدالت میں اپنا دفاع کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ قائم شدہ عدالتی عمل کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس انکار کے بعد عدالتی حکم پر مجید عادل مجید کو انتہاپسند لیڈر کا وکیل دفاع مقرر کیا گیا تھا۔ مولانا صوفی محمد کے خلاف عدالت کی جانب سے عائد فرد جرم کی تصدیق صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر قانون ارشد عبداللہ نے بھی کی ہے۔

NO FLASH Taliban in Pakistan

مولانا صوفی محمد کا نام سوات میں انتہاپسند تحریک کے دوران ایک معتبر حوالہ تھا

اس فرد جرم کے عائد کرنے کے بعد صوفی محمد کے خلاف عدالتی کارروائی انتہائی سخت سکیورٹی میں شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ سکیورٹی کی مجموعی صورت حال کے تناظر میں اس کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ عدالتی عمل خفیہ رکھا جائےگا۔

سن 2007 میں، وادیٴ سوات میں جنم لینے والی انتہاپسند عقیدے کی تحریک میں مولانا صوفی محمد کا بھی بڑا کردار محسوس کیا جاتا تھا۔ ان کو مقامی لوگ تحریک کے دوران قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تحریک طالبان سوات کے مرکزی لیڈر مولانا فضل اللہ سے ان کی رشتہ داری بھی خیال کی جاتی تھی۔ مولانا فضل اللہ سوات میں شروع کی جانے والی کٹر عقیدے کی مذہبی تحریک کے روحِ رواں تھے۔ اس مزاحمتی تحریک کو بعد میں پاکستانی فوج کے ایک خصوصی آپریشن میں اپریل سن 2009 میں ختم کر دیا گیا تھا۔

اس تحریک کی وجہ سے شمال مغربی وادی میں زندگی کا عمل مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ فوجی آپریشن کے اختتام کے بعد مولانا فضل اللہ روپوش رہے اور بعد میں زخمی حالت میں مفرور ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ غیر سرکاری رپورٹوں کے مطابق مولانا فضل اللہ اور چند دوسرے انتہاپسند پاکستانی مذہبی لیڈروں نے افغان صوبوں کنڑ اور نورستان میں ڈیرے جمائے ہوئے ہیں۔ مولانا فضل اللہ کے سر کی قیمت پچاس ملین روپے مقرر ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس