1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انتہائی دائیں بازو کی جرمن جماعت NPD کو درپیش بحران

جرمنی میں دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت NPD کے پورے ملک میں ارکان کی تعداد 2007 میں قریب 7200 بنتی تھی۔ یہ جماعت اپنے سیاسی پروگرام کے علاوہ بھی کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہے۔

default

مالیاتی سکینڈل، برے انتخابی نتائج اور پارٹی میں داخلی سطح پر کی جانے والی شدید تنقید، جرمنی میں دائیں بازو کی انتہا پسندانہ سوچ کی حامل جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی NPD کے سربراہ Udo Voigt کوجن حالات کا سامنا ہے انہیں کسی بھی طور قابل رشک قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن وہ پھر بھی پارٹی سربراہ کے عہدے پر فائز ہیں کیونکہ انہوں نے برلن میں NPD کے ملکی سطح کے حالیہ کنوینشن کے مندوبین کی اکثریت کو قائل کرلیا کہ اس پارٹی کی قیادت انہی کے پاس رہنی چاہیئے۔

اس موقع پر اُوڈو فوگٹ نے کہا: "ان حقائق کی بناء پر کہ ہماری جماعت اس سال کئی صوبائی پارلیمانی انتخابات میں اور وفاقی پارلیمان کے الیکشن میں ایک متحدہ پارٹی کے طور پر اپنی واضح سوچ کے ساتھ حصہ لینا چاہتی ہے، مجھے یہ بہتر امکانات بھی نظر آتے ہیں کہ اس سال ہم تین صوبوں کے پارلیمانی اداروں میں نمائندگی حاصل کرسکتے ہیں۔"

اب تک NPD کوجرمنی کے 16 میں سے دو صوبوں کے پارلیمانی اداروں میں نمائندگی حاصل ہے۔ ان میں سے ایک سیکسنی ہے جہاں کی پارلیمان میں اس پارٹی کے ارکان کی تعداد آٹھ ہے اور دوسرا میکلین بُرگ بالائی پومیرانیا نامی وہ وفاقی صوبہ جہاں کی پارلیمان میں اس پارٹی کے منتخب ارکان کی تعداد چھ ہے۔ یہ دونوں صوبے وفاقی جمہوریہ جرمنی کے مشرق میں واقع ہیں۔


مکمل حمایت سے محروم قیادت

56 سالہ Udo Voigt کو ابھی حال ہی میں NPD کے پارٹی کنوینشن میں اگر 62 فیصد مندوبین کی تائید سے دوبارہ اس پارٹی کا سربراہ چنا گیا تو یہ شرح یہ وضاحت بھی کردیتی ہے کہ اُوڈو فوگٹ کی جماعت ان پر کس حد تک اعتماد کرتی ہے۔ وہ علم سیاسیات کے ماہر ہیں اور 1996 سے NPD کی قیادت کررہے ہیں۔

NPD Bundesparteitag Der Parteivorsitzende Udo VOIGT bei seiner Rede, 30.10.2004.

56 سالہ Udo Voigt کو ابھی حال ہی میں NPD کے پارٹی کنوینشن میں اگر 62 فیصد مندوبین کی تائید سے دوبارہ اس پارٹی کا سربراہ چنا گیا

جرمنی میں دائیں بازو کی اس انتہا پسند سیاسی جماعت میں جس طرح اقتدار اور اثرورسوخ کی جنگ لڑی جارہی ہے، اس کی بناء پر اس جماعت کا داخلی طور پر متحد ہونا سرے سے ہی مشکوک ہوجاتا ہے۔


داخلی رسہ کشی

جرمن سیاسی جماعتوں کے بارے میں تحقیق کرنے والے برلن کی فری یونیورسٹی کے ایک ماہر سیاسیات Richard Stöss کہتے ہیں کہ NPD میں اُوڈو فوگٹ کی قیادت پر تنقید کے علاوہ داخلی سطح پر واضح رسہ کشی بھی جاری ہے۔

رشارڈ شٹوئس کہتے ہیں: "ہم جانتے ہیں کہ NPD میں پارٹی سربراہ کے طور پر اُوڈو فوگٹ کی سیاست پر شدید تنقید کی جاتی ہے۔ لیکن ان کے نقاد اتنے طاقتور اور متحد نہیں ہیں کہ وہ اس حالت میں ہوتے کہ موجودہ پارٹی سربراہ کو مسترد کرتے ہوئے ان کی جگہ کسی دوسرے لیڈر کوپارٹی سربراہ منتخب کرلیتے۔"


تقسیم کا خوف

برلن کی فری یونیورسٹی کے ماہر سیاسیات رشارڈ شٹوئس کہتے ہیں کہ NPD کے رہنما داخلی اختلافات کے باوجود اپنی ممکنہ تقسیم سے خوف کھاتے ہیں اور اس وقت یہ خوف اس لئے اور بھی شدید ہے کہ یہ جماعت آئندہ صوبائی، وفاقی اور یورپی انتخابات میں اپنی کامیابی کے پہلے ہی سے بہت محدود امکانات کو اپنی صفوں میں تقسیم کے ذریعے خود ہی مزید کم نہیں کرنا چاہتی۔

ہائنر کیزل / مقبول ملک