1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

انتہائی خطرناک ’سپر بگ‘ نامی بیکٹیریا بھارت میں

بھارت شہر نئی دہلی میں تمام اقسام کی جراثیم کُش ادویات اور اینٹی بائیوٹکس کو بے اثر کر دینے والے بیکٹیریا ’سپر بگ‘ کے خلاف فوری طور پر عالمی سطح پر اقدامات کرنے کا مطالبہ کر دیا گیا ہے۔

default

لانسیٹ نامی تحقیقی جریدے میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں پینے کے پانی کے مجموعی طور 171 نمونے لیے گئے، جن میں سے 51 میں یہ خطرناک بیکٹیریا پایا گیا۔ یہ آبی نمونے پانی فراہم کرنے والے نلکوں اور گندے پانی کے تالابوں سے حاصل کیے گئے تھے۔

سپر بگ بیکٹیریا، جو NDM-1 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، سن 2009 میں پہلی مرتبہ دریافت کیا گیا تھا۔ یہ تحقیق برطانیہ میں کارڈِیف یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی ٹیم نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مکمل کی۔

Rasterelektronenmikroskopscan von M. mycoides JCVI-syn1

سپر بگ بیکٹیریا سن 2009 میں پہلی مرتبہ دریافت کیا گیا تھا

سائنسدانوں کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پینے کے پانی میں ایسے بیکٹیریا پائے گئے ہیں، جو تمام اقسام کی اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں اور جنہیں ختم کرنا انتہائی مشکل ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اس بیکٹیریا میں این ڈی ایم ون نامی جین ملا ہے،جو اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کرتا ہے۔ محققین نے اس بیکٹیریا کے پانی میں پائے جانے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پینے کے پانی میں گندگی یا آلودگی پیدا کرنے والے عناصر کے ملنے سے وجود میں آتا ہے۔

یہ بیکٹیریا اسہال اور پیٹ کی دیگر بیماریوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے نئی دہلی کے تمام شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ نئی دہلی میں قریب 16 ملین افراد رہتے ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر اور اکتوبر کے درمیانی عرصے میں کی گئی اس تحقیق میں ایسے غیر ملکیوں کو بھی خبر دار کیا گیا ہے، جو علاج کی غرض سے بھارت کا رخ کرتے ہیں۔ بھارت جانے والے ایسے غیر ملکیوں کی سالانہ تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے۔

اس اطلاع کے بعد عالمی ادارہء صحت نے دنیا بھر میں اس بیکٹیریا کے باعث انفیکشن کے واقعات کی نگرانی کا حکم جاری کر دیا ہے۔ محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئی دہلی کے رہائشی افراد اس بیکٹیریا سے متاثر ہو سکتے ہیں اور انہیں محتاط رہنا چاہیے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی مزید تحقیق کی پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی اشد ضرورت ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM