1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انتخابات کے بعد ایران کا بدلتا ہوا سیاسی ماحول

ایران کے پارلیمانی انتخابات میں اصلاحات اور اعتدال پسندوں کے حصے میں واضح کامیابیاں آئی ہیں۔ دارالحکومت تہران کی کوئی بھی نشست کٹر نظریات کے حامی یا قدامت پسند حاصل نہیں کر سکے۔

ایران کے پارلیمانی انتخابات میں اصلاحات پسند صدر حسن روحانی اور ان کے حامیوں کا پلڑا بھاری ہے۔ اس طرح پارلیمان میں قدامت پسندوں کی اکثریت ختم ہونے کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔ دارالحکومت تہران کی تیس نشستوں میں قدامت پسندوں یا کٹر نظریات کی حامل تنظیموں کا کوئی بھی امیدوار کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ جمعے کو ہونے والے انتخابات میں اصلاحات اور اعتدال پسندوں نے ایک ساتھ مل کر حصہ لیا تھا۔ ایران پر اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد یہ پہلے انتخابات تھے۔

2009ء کے متنازعہ انتخابات کے بعد ان نتائج کو اصلاحات پسندوں کی ایک بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ اس وقت سخت گیر موقف رکھنے والے احمدی نژاد کامیاب ہوئے تھے اور حکومت مخالف مظاہروں میں درجنوں افراد کی جان گئی تھی۔ اصلاحات پسندوں نے انتخابات کو غیر شفاف قرار دیتے ہوئے 2012ء کے پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اعتدال پسندوں اور اصلاحات کے حامیوں کے امیدواروں میر حسین موسوی اور مہدی کروبی کو2011ء میں ہی نظر بند کر دیا گیا تھا۔

سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کا شمار بھی اصلاحات پسندوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اس تناظر میں اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ عوام کی خواہشات کے آگے کوئی مزاحمت نہیں کر سکتا۔ ’’ کوئی بھی اتنا طوقت ور نہیں جو اکثریتی عوام کے فیصلے کے خلاف کھڑا ہو سکے اور عوام جسے مسترد کرے، اسے ہٹنا ہی ہو گا۔‘‘

رفسنجانی بھی ایران کی مجلس خبرگان کے انتخابات میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ 88 رکنی یہ کونسل ضرورت پڑنے پر ملک کے سپریم لیڈر کو منتخب کرتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہاں بھی حسن روحانی کے حامیوں کو کامیابی ملی ہے۔ اس سے قبل کئی اصلاحات پسندوں کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیے گئے تھے۔ مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات میں کل 161 امیدواروں نے حصہ لیا۔ آیت اللہ خمینی کے پوتے حسن خمینی بھی اس مجلس کا رکن بننا چاہتے تھے تاہم انہیں بھی نا اہل قرار دے دیا گیا۔ ان کا شمار بھی حسن روحانی کے حامیوں میں ہوتا ہے۔

انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب تقریباً ساٹھ فیصد رہا جب کہ 2012ء کے انتخابات میں 64 فیصد اہل ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔ ایران کے انقلابی گارڈز نے کے مطابق انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت قیادت اور ملکی نظام پر بھروسے کی عکاسی کرتی ہے۔ انقلابی گارڈز کے اتوار کو جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا،’’ ہمیں مکمل بھروسا ہے کہ انتخابات میں فتح سے ہم کنار ہونے والا ایران کے وقار اور تحفظ کے لیے کام کرے گا۔‘‘