’انتخابات کی ملکہ‘ کو سیاسی بقا کی جنگ کا سامنا | حالات حاضرہ | DW | 14.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’انتخابات کی ملکہ‘ کو سیاسی بقا کی جنگ کا سامنا

جنوبی کوریا کی خاتون صدر پَک گُن یے نے گزشتہ عشروں کے دوران اپنی سیاسی جماعت کو جس طرح بار بار اور شاندار کامیابیاں دلوائیں، ان کی وجہ سے وہ ’انتخابات کی ملکہ‘ کہلاتی ہیں۔ اب لیکن انہیں اپنی سیاسی بقا کی جنگ کا سامنا ہے۔

Südkorea Präsidentin Park Geun-hye

جنوبی کوریائی صدر پَک گُن یے

جنوبی کوریا میں حالیہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے جمعرات 14 اپریل کو اپنے ایک مراسلے میں لکھا ہے کہ ماضی میں کئی دہائیوں تک پَک گُن یے کبھی متوقع اور کبھی قطعی غیر متوقع انتخابی کامیابیوں کے ساتھ اپنی پارٹی کی رہنما کے طور پر جو ریکارڈ قائم کرتی آئی تھیں، اب وہ تسلسل ٹوٹ گیا ہے۔

DW.COM

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تسلسل کا ٹوٹنا بھی اچانک اور غیر متوقع تھا۔ مشرق بعید میں جزیرہ نما کوریا کی اس ریاست میں ملکی صدر کی پارٹی کو اتنی بڑی اور حیران کن شکست ہوئی کہ اب انہیں یکدم اپنی سیاسی بقا کی جنگ کا سامنا ہے۔

پَک گُن یے کے پانچ سالہ عہدہ صدارت کے ابھی دو سال باقی ہیں اور اس عرصے میں انہیں اب ایک طرف تو اس عمومی تاثر کا مقابلہ کرنا ہو گا کہ ان کی حیثیت اب بہت کمزور ہو گئی ہے۔ دوسری طرف انہیں سیاسی حریفوں کی اکثریت والی پارلیمان میں اپنی داخلہ پالیسیوں کو منظور کروانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی منتشر ہوتی ہوئی پارٹی کو اکٹھا رکھنے کے لیے جدوجہد کرنا ہو گی۔

بدھ 13 اپریل کو ہونے والی پارلیمانی الیکشن میں صدر پَک گُن یے کی قدامت پسند سینُوری پارٹی 300 رکنی ایوان میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اس جماعت کے نو منتخب اراکین کی تعداد 122 ہے لیکن اپوزیشن کی مرکزی جماعت ’مِنجُو پارٹی‘ 123 نشستوں پر کامیاب رہی۔

اس طرح اب پَک گپن یے انتظامیہ کی طرف سے ملک میں متعارف کرائی گئی ان اصلاحات کی کامیاب تکمیل خطرے میں پڑ گئی ہے، جن پر پہلے ہی بہت تنقید کی جا رہی تھی۔ ان اصلاحات میں یہ منصوبہ بھی شامل ہے جس کے مطابق مختلف آجر اداروں کے لیے اپنے ملازمین کو برطرف کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس کے علاوہ اس انتخابی ناکامی کے اثرات اگلے سال شروع ہونے والی اس صدارتی انتخابی دوڑ پر بھی پڑیں گے، جو اب ایک طرح سے موجودہ صدر کے دور اقتدار اور اس کے نتائج پر عوامی ریفرنڈم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

USA Südkorea Obama und Park

پَک گُن یے امریکی ہم منصب باراک اوباما کے ساتھ

جنوبی کوریائی قدامت پسندوں کے لیے ایک تکلیف دہ حقیقت یہ بھی ہے کہ کل کے عام انتخابات سے قبل رائے عامہ کے جائزوں میں کہا یہ جا رہا تھا کہ پَک گُن یے کی سینُوری پارٹی مختلف دھڑوں میں بٹی ہوئی سیاسی اپوزیشن کو آسانی سے ہرا دے گی اور یوں دسمبر 2017 میں موجودہ صدر کے لیے ایک بار پھر صدارتی انتخابات میں کامیابی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ کئی ماہرین کی رائے میں سینُوری پارٹی کی انتخابی ناکامی میں موجودہ صدر کی طرز قیادت پر ووٹروں کے ردعمل کا ہاتھ سب سے نمایاں رہا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق پَک گُن یے کے ناقدین کہتے ہیں کہ خاتون صدر ایک ایسی رہنما ہیں جو معاملات کو پوری طرح اپنے ہاتھ میں رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہیں اور پھر ان میں کسی لچک کا کوئی مظاہرہ نہیں کرتیں۔

ناقدین کے بقول یہ بھی پَک گُن یے کی سیاست کا نتیجہ ہی سمجھا جاتا ہے کہ جنوبی کوریائی عوام ملکی معیشت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں، سرکاری بجٹ میں خسارہ اپنی نئی بلندیوں کا پہنچ گیا ہے اور ملک میں 30 سال سے کم عمر کے کارکنوں میں بے روزگاری کی شرح اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ ایسی شرح 1990 کی دہائی کے آخری برسوں سے لے کر آج تک کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔