’انتخابات سے قبل پی آئی اے کو بیچنے کا ارادہ ہے‘ | حالات حاضرہ | DW | 14.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’انتخابات سے قبل پی آئی اے کو بیچنے کا ارادہ ہے‘

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے نجکاری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اس برس انتخابات سے قبل قومی ایئر لائن پی آئی کی نجکاری مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ قومی ایئرلائن کی نجکاری کا عمل سن 2016 میں روک دیا گیا تھا۔

خسارے کا شکار پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن اپنی مارکیٹ اتحاد اور ایمیریٹس جیسی ایئر لائنز کے باعث بھی تیزی کھو رہی ہے۔ سن 2013 میں اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نون کی ترجیحات میں اس قومی ایئر لائن کی نجکاری بھی شامل تھی۔ عالمی مالیاتی ادارے کی قرضہ دینے کی شرائط میں خسارے کا شکار جن 68 قومی اداروں کی نجکاری کرنے کا کہا گیا تھا، پی آئی اے اس میں بھی سرفہرست تھی۔

ہوائی جہاز رن وے سے پھسل کر سمندر میں گرنے سے بچ گیا

خاتون مسافر شیمپین نہ ملنے پر لڑ پڑی، جہاز کی ہنگامی لینڈنگ

مسلم لیگ ن کی حکومت نے قومی اداروں کی نجکاری میں ابتدائی طور پر تیزی سے کامیابی حاصل کی لیکن پی آئی اے کی نجکاری میں انہیں کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سن 2016 میں قومی اسمبلی میں پاس کیے جانے والے ایک قانون کے بعد انتہائی خسارے کے شکار اس قومی ادارے کو نجی ملکیت میں دینے کا حکومتی منصوبہ عملی طور پر ختم ہو کر رہ گیا تھا۔

تاہم روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے نجکاری کمیشن کے چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز کا کہنا ہے کہ حکومت اب رواں برس کے ملکی انتخابات سے قبل پی آئی اے کو فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ عزیز کے مطابق یہ منصوبہ تیار ہو چکا ہے جسے اب اگلے مرحلے میں کیبنٹ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ نئے منصوبے کے تحت قومی ایئر لائن کی ملکیت میں موجود دیگر کاروبار الگ کرنے کے بعد اس قومی ادارے کو فروخت کیا جانا ہے۔

لیکن کابینہ سے منظوری کے بعد بھی حکومت کو پی آئی اے کی نجکاری کے لیے ملکی پارلیمان میں نئی قانون سازی کر کے سن 2016 کے اس قانون کو ختم کرنا پڑے گا جس کے تعد پی آئی اے کو لیمیٹڈ کمپنی قرار دیا جا چکا ہے۔

اس ادارے کی جلد از جلد فروخت کی کوشش کا بنیادی محرک اسے لاحق خسارہ ہے۔ پی آئی اے کے ایک سابق سی ای او کے اندازوں مطابق ادارے کو ہر ماہ 30 ملین ڈالر نقصان کا سامنا ہے اور گزشتہ برس مارچ تک اس قومی ادارے کے ذمے واجب الادا قرض 186 ارب پاکستانی روپے سے تجاوز کر چکا تھا۔

روئٹرز نے دانیال عزیز سے پوچھا کہ ادارے کو خریدنے والا کتنی جلدی اسے خرید پائے گا تو ان کا جواب تھا، ’’کل صبح ہی، اگر آپ کے پاس پیسے ہیں، آئیے اور اسے خرید لیجیے۔‘‘ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پی آئی اے کو کتنی قیمت کے عوض فروخت کیے جانے کی توقع ہے۔

سالِ گزشتہ ہوابازی کے لیے محفوظ ترین سال

DW.COM