1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امیگریشن پابندیاں: ’عدالتیں جانبدار نہیں سیاسی ہیں‘، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی عائد کردہ لیکن متنازعہ ہو جانے والی امیگریشن پابندیوں کو ملکی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی ’وفاقی عدالتیں جانبدار نہیں ہیں لیکن وہ بہت زیادہ سیاسی ہو چکی‘ ہیں۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے بدھ آٹھ فروری کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور امریکی عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ یہ امیگریشن پابندیاں نافذ رہیں۔

ٹرمپ نے سفری پاپندیاں کیا مذہبی بنیادوں پر عائد کیں؟ عدالت کا سوال

کون امریکا آ سکتا ہے، کون نہیں؟ بحث آج عدالت میں

دو دنوں میں ٹرمپ کے لیے دوسرا بڑا عدالتی دھچکا

ریپبلکن صدر ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے ستائیس جنوری کو فی الحال تین ماہ کے لیے لگائی گئی ان پابندیوں کا دفاع آج بدھ کے روز قانون نافذ کرنے والے ملکی اداروں کے افسروں سے اپنے ایک خطاب میں کیا۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس خطاب میں امریکا کی وفاقی عدالتوں کے ججوں پر بھی سخت تنقید کی۔ اس تنقید کی وجہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے مہاجرین اور سات مسلم اکثریتی ملکوں کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر جو پابندی عائد کی تھی، اس پر پورے ملک میں عمل درآمد ریاست واشنگٹن میں سیاٹل کی ایک وفاقی عدالت کے جج نے معطل کر دیا تھا۔

اس وقت اس حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے امریکی محکمہء انصاف کی دائر کردہ ایک اپیل فیڈرل اپیلز کورٹ میں زیر سماعت ہے اور تاحال یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ آیا ٹرمپ کی عائد کردہ امیگریشن پابندیاں بحال کر دی جانا چاہییں۔

اس تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے خطاب میں کہا، ’’میری رائے میں اس وقت ہماری سلامتی خطرے میں ہے۔ میں کبھی بھی کسی عدالت کو جانبدار نہیں کہنا چاہوں گا۔ اس لیے میں یہ کہہ بھی نہیں رہا کہ عدالتیں جانبدار ہیں۔ لیکن ابھی تک کوئی عدالتی فیصلہ بھی نہیں آیا۔‘‘

ٹرمپ نے مزید کہا، ’’بظاہر ہماری عدالتیں بہت سیاسی رنگ اختیار کر چکی ہیں۔ اس لیے امریکی نظام انصاف کے لیے یہ بات بہت اچھی ہو گی کہ وہ (جج صاحبان) ایک بیان پڑھیں اور وہ کریں جو صحیح ہے۔‘‘

آج بدھ ہی کی صبح صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں یہ بھی لکھا کہ ان کی طرف سے عائد کردہ امیگریشن پابندیوں سے متعلق جو اپیل اس وقت وفاقی اپیلز کورٹ میں زیر سماعت ہے، اگر امریکی محکمہء انصاف وہ مقدمہ ہار گیا تو ’اس ملک کو وہ سلامتی اور تحفظ کبھی نہیں مل سکیں گے جن کی فراہمی اس کا بنیادی استحقاق ہے‘۔

 

DW.COM