1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امیر ملک جرمنی میں دو ملین غریب بچے

ایک حالیہ مطالعاتی جائزے کے مطابق یورپی ملک جرمنی ایک طرف اقتصادی طور پر مزید مضبوط اور امیر ہوا ہے جبکہ دوسری جانب اس ترقی یافتہ معاشرے میں غریب بچوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

ماہرین اس سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ، جرمنی غربت کے شکار ان دو ملین بچوں کی پائیدار اور ٹھوس پرورش کس طرح کر سکتا ہے؟ جرمنی میں ضروریات زندگی، مثال کے طور پر غذا کی کوئی قلت نہیں پائی جاتی نہ ہی یہاں ادویات اور سردیوں میں ٹھنڈ سے بچنے کے لیے لباس کی کوئی کمی ہے۔ یورپ کی اس سب سے بڑی اقتصادی قوت میں عام طور پر تمام بچوں کو اسکول کی تعلیم کی سہولیات بھی میسر ہیں۔ جرمن دارالحکومت برلن اور جنوبی جرمن صوبے باویریا کے غریب بچوں تک کو وہ مراعات اور سہولیات میسر ہیں جو دنیا بھر میں پائے جانے والے بچوں کی اکثریت جو تقریباً 2 بلین بنتی ہے، کے نصیب میں نہیں ہیں۔

Symbolbild Deutschland Kinderarmut

جرمن اسکولوں میں غریب بچے اکثر گھر سے کھانا نہیں لا تے ہیں

برٹلسمن فاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تازہ رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ جرمنی بحیثیت ایک ترقی یافتہ ریاست مزید ثروت مندی کی طرف گامزن ہے لیکن یہاں بچوں میں غربت بڑھ رہی ہے۔ اس مطالعاتی جائزے سے پتہ چلا ہے کہ جرمنی میں اس وقت ایسے بچوں کی تعداد قریب دو ملین ہے جو سوشل بینیفٹ یا سماجی امداد پر گزارا کرنے والے گھرانوں میں پروان چڑھ رہے ہیں اور ان فیملیز کو کم از کم گزشتہ پانچ برسوں سے سماجی مراعات اور سوشل فینیفٹ کے بجٹ سے امدادی رقوم فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس ضمن میں یہ امر اہم ہے کہ جرمنی میں ریاست کی طرف سے غریب خاندانوں کو دی جانے والی اس مالی امداد کو ’Hartz IV ‘ کہا جاتا ہے اور اسے حاصل کرنے والے والدین کو غریب تصور کیا جاتا ہے۔ محققین نے یہ اعداد و شمار جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے روزگار سے حاصل کیے ہیں۔ سماجی امور پر نظر رکھنے اور سماجی مسائل پر تحقیق کرنے والوں نے جرمن بچوں اور نوجوانوں پر غربت کے اثرات کے بارے میں ایک طویل عرصے تک مطالعہ کیا۔

Deutschland Symbolbild Jugendarmut

غربت کے سبب اعلیٰ تعلیم کا حصول مشکل ہوتا ہے اور تعلیم کی کمی نوجوانوں کو نفسیاتی طور پر گہرے ڈپریشن میں مبتلا کر دیتی ہے

ان محققین کا کہنا ہے کہ جرمنی میں غربت کے شکار بچوں کو تازہ تیار کردہ غذا کی کمی کا سامنا ہے جس کے سبب وہ کم خوراکی کا شکار ہیں اور ان پر بیماریاں بہت جلدی حملہ آور ہوتی ہیں۔ اس مطالعاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غریب گھرانوں کے بچے زیادہ تر سماجی طور پر تنہائی کا شکار ہوتے ہیں۔ ان بچوں کے والدین دیگر بچوں کی طرح اپنے بچوں کو اسکول کی طرف سے تفریحی سفر پر نہیں بھیج سکتے نہ ہی انہیں میوزک کی کلاس یا اسپورٹس کے گھنٹوں میں شرکت کے لیے رجسٹر کرواتے ہیں کیونکہ ان سب کے لیے والدین کو علیحدہ سے فیس جمع کرانا پڑتی ہے۔ غریب گھرانوں کے بچوں کے پاس اکثر کوئی علیحدہ کمرہ نہیں ہوتا جہاں وہ اپنی مرضی سے کھیل کوُد سکیں اور اپنا ہوم ورک سکون کے ساتھ کر سکیں۔ ان سب چیزوں کے منفی اثرات ان بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر پڑتے ہیں۔

Deutschland Symbolbild Kinderarmut

غربت کے شکار بچے عام طور سے معاشرے میں خود کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں

بچوں کی پرورش اور تعلیم کا دارومدار اس امر پر ہوتا ہے کہ وہ کس جرمن شہر میں پروان چڑھتے ہیں اور انہیں کون کون سی سہولیات میسر ہیں۔ جرمنی کا جنوبی صوبہ باویریا ثروت مندی کے اعتبار سے کافی اوپر ہے۔ وہاں بچوں کا رہن سہن اور ان کا معیار زندگی جرمنی کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے بچوں سے کہیں بلند ہے کیونکہ اس صوبے میں معاشی اعتبار سے کمزور باشندوں کی شرح کافی زیادہ ہے۔ مشرقی جرمنی میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ غربت کا شکار ہے۔ دارالحکومت برلن میں ہر تین میں سے ایک بچہ غربت میں پل رہا ہے جبکہ جرمن صوبے باڈن وؤٹنبرگ اور باویریا میں بچے آسودہ گھرانوں میں آنکھ کھولتے ہیں۔

DW.COM