1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امیر ملکوں کے وزرائے خزانہ کی خصوصی میٹنگ

عالمی کساد بازاری کے خاتمے کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لینے کے لئے امیر ملکوں کے گروپ کے وزرائے خزانہ اٹلی کے شہر لیچے میں جمع ہوئے۔ کئی اہم معاملات اُن کے سامنے تھے جس میں بینکوں کا سٹریس ٹیسٹ اہم تھا۔

default

اٹلی کے شہر لیچے میں گروپ ایٹ کے وزرائے خزانہ کا گروپ فوٹو

اٹلی میں آٹھ امیر ملکوں کے وزرائے خزانہ کی میٹنگ میں عالمی کساد بازاری کے تناظر میں کئے جانے والے اقدامات کے حوصلہ افزاء نتائج کا جائزہ لینے کی شروعات ہو گئی ہیں۔ اِس میٹنگ میں عالمی مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لئے جو تحریکی اور امدادی پیکج سامنے لائے گئے تھے اب اُن کی چادر لپیٹنے کے عمل پر بھی بات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ مالیاتی معاملات پر قدامت پرستانہ رویہ رکھنے والے ملک کینیڈا اور جرمنی بھی اِس نکتہ پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔

میٹنگ کے حوالے سے ایک بیان میں یہ واضح کیا گیا کہ فی الفور کسی بھی مالیاتی تحریکی پییکج کے ختم کئے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اِس بیان میں یہ حوصلہ افزاء خبر بھی دی گئی کہ عالمی کساد بازاری کے گہرے سیاہ بادل اب اپنی شدت میں کسی حد تک کم دکھائی دے رہے ہیں لیکن مالیاتی منظر نامے پر اب بھی بے یقینی کی کیفیت موجود ہے۔ اُس میں اعتماد اور یقین کے عنصر کا فقدان ہے۔

G8-Treffen in Lecce

اٹلی کے شہر لیچے میں امریکی اور برطانوی وزرائے خزانہ

امیر ملکوں کے وزرائے خزانہ کی میٹنگ میں بینکوں کے لئے شروع کئے گئے سٹریس ٹیسٹ کو ایک اہم موضوع کے طور پرشامل کیا گیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر خزانہ Jim Flaherty نے بینکوں کے لئے سٹریس ٹیسٹ کے نتائج کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب یورپی اقوام بینکوں کے لئے شروع کردہ سٹریس ٹیسٹ کے نتائج کو عام کرنے پر منقسم ہیں۔ سٹریس ٹیسٹ سے مراد چالُو حالت میں بینکوں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ اُن کے واجبات کا تقابلی جائزہ لینا ہے۔

رواں سال کے چو تھے مہینے تک کے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اُس میں عالمی سطح پر پیداواری سطح پر کچھ بہتری کے آثار ضرور محسوس کئے گئے ہیں لیکن یورو زون ملکوں کے صنعتی پیداواری حجم میں مزید کمی سے یورو کرنسی کی قدر میں کمی سے یورپ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

G8-Treffen in Lecce

لیچے میٹنگ کے دوران اٹلی اور روس کے وزرائے خزانہ

میٹنگ میں شریک امریکی وزیر خزانہ ٹموتھی گائٹنر کا خیال ہے کہ امریکی مالیاتی پالیسی میں سردست کسی بھی مزید سخت قانون کی گنجائش دکھائی نہیں دے رہی اور نہ ہی مستقبل قریب میں اِس میں کسی تبدیلی کا امکان ہے۔ روسی وزیر خزانہ الیکسی کُودرین کے خیال میں یہ میٹنگ اپنے موضوعات میں طوفانی پہلو لئے ہوئے ہے اور دیکھا جانا ہے کہ مختلف ملکوں کی جانب سے شروع کئے جانے والے اقدامات اب مالیاتی بحران کے اندر کس سمت کی جانب گامزن ہیں۔

اِس میٹنگ کے ساتھ ساتھ برطانیہ کی جانب سے ادویات ساز اداروں کی حوصلہ افزائی کے لئے پانچ سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا۔ اِس کا مقصد غریب ملکوں کے لئے ویکسین کی تیاری اور فراہمی ہے۔ ادویات ساز اداروں سےویکیسن کی خریداری بھی اِس میٹنگ کا ایک موضوع ہے کیونکہ عالمی مالیاتی بحران کے دوران ویکسین کے لئے مختص رقم میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اب نئے اقدامات سے ادویات ساز کمپنیوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے تا کہ وہ بیماریوں کے خلاف مدافعتی دوائیں تیار کرتے رہیں۔

G8 Lecce

لیچے میں گروپ ایٹ کے وزرائے خزانہ کا ایک اور گروپ فوٹو

دوسری جانب اٹلی کے جنوبی شہر لیچے میں گروپ ایٹ کے وزرائے خزانہ کی اِس ویک اینڈ پر شروع ہونے والی میٹنگ کے دوران انتہائی سخت سکیورٹی دیکھنے میں آئی ہے۔ شہر میں سرکاری تعطیل کے اعلان پر کاروباری اور دوکاندار حضرات کے ساتھ عام آدمی بھی شاکی دکھائی دے رہے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق پچانوے ہزار کی آبادی والا شہر ویران نظر آ رہا ہے۔ لوگ گھروں کے اندر ہیں۔ وزرائے خزانہ کی میٹنگ کے دوران مظاہروں کی منصوبہ بندی بھی کی گئی۔ اِسی تناظر میں ہفتہ کے روز دو ہزار کے قریب افراد نے ایک احتجاج میں شرکت کی اور عالمگیریت اور کئی اور معاملات کے خلاف نعرہ بازی کی۔ شرکائے احتجاجی مارچ کے دوران باغیانہ گیت بھی گاتے رہے۔

اٹلی کے شہر ٹرسٹے میں جون کی پچیس تاریخ سے بیس اہم ملکوں کے وزرائے خارجہ کا تین روزہ اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ Franco Frattini کے مطابق احمدی نژاد کے دوبارہ منتخب ہونے کے سلسلے میں ایران میں تشدد اور بحران کے باوجود اُس میٹنگ میں ایران یقیناً شامل ہو گا۔ گروپ ایٹ کے ملکوں کے ساتھ میٹنگ میں ایران کے علاوہ چین، بھارت، سعودی عرب اور مصر بھی شرکت کر رہا ہے۔ اِس میٹنگ میں دوسرے اُمُور کے علاوہ پاکستان اور افغانستان میں تقویت پکڑتی عسکریت پسندی کو خاص طور پرموضوع بحث لایا جائے گا۔

اٹلی کے وزیر اعظم سلویو برلسکونی نے جولائی میں گروپ ایٹ کے ملکوں کے سربراہی اجلاس کے لئے زلزلے سے تباہی کا شکار ہونے والا شہر لا کیولا کا انتخاب کیا ہے۔

گروپ ایٹ کے ملکوں میں امریکہ، جرمنی، جاپان، برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا اور برطانیہ شامل ہیں۔