امیر ملکوں کے رہائشیوں کی اوسط عمر میں دس سال کا اضافہ | صحت | DW | 04.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

امیر ملکوں کے رہائشیوں کی اوسط عمر میں دس سال کا اضافہ

اقتصادی تعاون اور ترقی کی بین الاقوامی تنظیم کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق سن 1970 کے بعد سے امیر ملکوں کے رہائشیوں کی اوسط عمر میں دس سال کا اضافہ ہوا ہے لیکن امریکا اس میں کئی ممالک سے پیچھے ہے۔

اقتصادی تعاون اور ترقی کی بین الاقوامی تنظیم (او ای سی ڈی) کی طرف سے دنیا کے چونتیس امیر ممالک میں رہنے والے باشندوں کی متوقع زندگی کے بارے میں نئے اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ اس نئی تحقیق کے مطابق 78.8 برس کی اوسط عمر کے ساتھ امریکا ستائیسویں نمبر پر ہے۔ بتایا گیا ہے کہ چالیس برس پہلے امریکی شہریوں کی اوسط عمر آج کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ دوسری جانب صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے امریکا اس سروے میں شامل دیگر امیر ممالک سے کہیں آگے ہے۔

اس تحقیق میں شامل کیے گئے دیگر ممالک کی نسبت امریکا اڑھائی فیصد زائد خرچ کر رہا ہے۔ بنیادی طور پر اس تحقیق میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ انسانوں کی متوقع زندگی میں کتنے برس کا اضافہ ہوا ہے اور اس میں موجودہ شرح اموات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ طب کی دنیا میں حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے اور ابھی جاری ہے، جس کی وجہ سے انسانوں کی عمروں میں اضافہ ہوا ہے۔

تحقیق کے مطابق سن 1970 کے سے لے کر سن 2013 تک امیر ممالک کے رہاشیوں کی اوسط عمروں میں دس سال کا اضافہ ہوا ہے۔ سن 2013 تک ان ممالک میں اوسط عمر 80.5 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔ اس تحقیق کے مطابق خواتین اور مردوں کی متوقع عمروں میں پایا جانے والا فرق بھی کم ہوا ہے۔ پہلے خواتین کی متوقع عمر مردوں کے مقابلے میں سات برس زائد تھی اب یہ فرق کم ہو کر پانچ برس رہ گیا ہے۔

اوسط عمر کے لحاظ سے جاپان پہلے نمبر پر ہے جبکہ اسپین اور سوئٹزرلینڈ کے رہائشیوں کی متوقع عمر بھی جاپان کے برابر ہے۔ اس کے بعد اٹلی، فرانس اور آسٹریلیا کے نمبر آتے ہیں۔ چونتیس ممالک کی متوقع عمر کی فہرست میں سلوواکیہ اور ہنگری کا نمبر تیس ممالک کے بعد آتا ہے۔