1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

امیر اور غریب ممالک، دونوں میں بچوں میں موٹاپا بڑھتا ہوا

دنیا کے کئی ترقی یافتہ اور امیر ممالک میں بچوں میں موٹاپے کی شرح اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے جبکہ ترقی پذیر ملکوں کے بچوں میں بھی فربہ پن کا رجحان مسلسل زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بات ایک نئی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔

برطانوی دارالحکومت لندن سے بدھ گیارہ اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں جتنے بھی بچے ہیں، ان میں سے اپنی عمر اور قد کے مطابق موٹاپے کے شکار بچوں کے مقابلے میں معمول کے جسمانی وزن سے کم وزن کے حامل بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

Symbolbild Burger Big Mac

موٹاپے کی وجہ اکثر غیر صحت بخش غذا بنتی ہے

تشویش کی بات لیکن یہ ہے کہ اگر نابالغ انسانوں میں موٹاپے کا مسلسل بڑھتا ہوا موجودہ رجحان جاری رہا، تو 2022ء تک عالمی سطح پر فربہ پن کے شکار بچے اکثریت میں ہو جائیں گے۔

بھارت: معاشی ترقی کی قيمت، نوجوانوں ميں موٹاپا اور ذيابيطس

زیادہ وزن، عمر میں دس سال تک کمی کا باعث

صحت مند بڑھاپے کا عمر سے زیادہ تعلق نہیں، نئی تحقیق

اس موضوع پر ایک نئی تحقیق کے دوران برطانوی سائنس دانوں اور عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے ان اعداد و شمار کا تفصیلی تجزیہ کیا، جو مختلف ممالک میں پانچ سے لے کر انیس برس تک کی عمر کے 32 ملین بچوں اور نوجوانوں کے جسمانی وزن سے متعلق 2400 مختلف مطالعاتی جائزوں میں جمع کیے گئے تھے۔

یہ وسیع تر ڈیٹا جن مطالعاتی جائزوں کے نتیجے میں حاصل ہوا تھا، وہ 1975ء اور 2016ء کے درمیانی عرصے میں مکمل کیے گئے تھے۔ ان طبی تحقیقی جائزوں میں قریب سوا تین کروڑ بچوں اور نوجوانوں کے ’باڈی ماس انڈکس‘ یا BMI کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی صحت سے متعلق مستقبل کے مختلف ممکنہ ماڈل تیار کیے گئے تھے۔

باڈی ماس انڈکس یا بی ایم آئی طبی طور پر ایک ایسی عددی پیمائش کا نام ہے، جو یہ بتاتی ہے کہ کسی اوسط صحت مند انسان کی عمر، جنس، قد اور وزن کے مطابق اچھی صحت کے لحاظ سے ان عوامل کا تناسب کیا ہونا چاہیے۔

دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے کمر کم کیجیے

’ہر پانچ میں سے ایک شخص موٹاپے کا شکار ‘

اس نئی ریسرچ کے نتیجے میں ماہرین کو پتہ یہ چلا کہ ترقی یافتہ معاشروں میں بچوں میں موٹاپے کی شرح اپنی اب تک کی انتہائی اونچی حد تک پہنچ چکی ہے۔ مثلاﹰ برطانیہ میں چھوٹے بچوں اور انیس برس تک کی عمر کے نوجوانوں میں سے قریب 10 فیصد موٹاپے کا شکار ہیں اور امریکا میں تو معاشرے کے اسی طبقے میں فرپہ پن کی شرح قریب 20 فیصد ہو چکی ہے۔

اس کے برعکس ترقی پذیر معاشروں میں بھی بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپے کی شرح مسلسل زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے نزدیک اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کے شہریوں کے لیے ’غربت کی وجہ سے صحت بخش غذا تک رسائی بہت مشکل‘ ہو چکی ہے۔

دوسری طرف یہ بات بھی پریشان کن ہے کہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور افغانستان جیسے ممالک کے بچوں اور نوجوانوں میں معمول سے کم جسمانی وزن کا تناسب بھی بہت زیادہ ہے۔

موٹاپا، الکوحل اور تمباکو نوشی، قبل از وقت موت کی بڑی وجوہات

موٹاپے سے تحفظ، شکر کا روزانہ استعمال آدھا کر دیں

مجموعی طور پر جنوبی ایشیا میں قریب 20 فیصد لڑکیوں اور 28 فیصد لڑکوں کا جسمانی وزن اپنی صحت مند اوسط سے یا تو کچھ کم یا پھر بہت ہی کم ہوتا ہے۔ اسی کم جسمانی وزن کی وجہ سے ایسے نابالغ شہریوں کے مختلف بیماریوں کا شکار ہو جانے کا خطر بھی زیادہ ہو جاتا ہے، خاص طور پر ایسی لڑکیوں کو بعد میں دوران حمل کئی طرح کی پیچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

عالمی سطح پر بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپے کے اس رجحان کے بارے میں اس مطالعاتی رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک اور لندن کے امپیریل کالج کے محقق مجید عزتی کہتے ہیں، ’’نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اس بارے میں لازمی طور پر کچھ کیا جانا چاہیے۔ نئی نسل میں موٹاپے کی یہ شرح بہت ہی زیادہ ہے اور اسے لازمی طور پر کم کیا جانا چاہیے۔‘‘

DW.COM