امیروں کی زیبائشی سرجری کی کمائی سے غریبوں کی معذوری کا علاج | معاشرہ | DW | 07.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امیروں کی زیبائشی سرجری کی کمائی سے غریبوں کی معذوری کا علاج

ایک افغان پلاسٹک سرجن نے اپنے ملک کے نظام صحت کو عوام کے لیے موثر بنانے کی ایک انوکھی اسکیم شروع کی ہے۔ امیروں کی سرجری سے کمائے جانے والے پیسوں سے وہ غریب افراد کا علاج کر رہے ہیں۔

سرجن عبدالغفار غیور کا جراحی کا مرکز افعان دارالحکومت کابل میں قائم ہے۔ عشروں سے جنگ کے شکار افغان معاشرے میں صحت کی سہولیات عوام یا غریبوں کے لیے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو نبھانے کے جذبے سے سرشار بہت سے ڈاکٹروں کی کوشش ہے کہ کسی طرح غریب طبقے کو ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان ہی میں سے ایک سرجن عبدالغفار غیور بھی ہیں۔ انہوں نے معاشرتی انصاف کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے فنِ جراحی کے ذریعے معاشرے کے ثروت مند طبقے سے کمائے جانے والے پیسوں سے ایسے لوگوں کی طبی امداد کا بیڑا اُٹھایا جو تنگدستی یا غربت کے سبب کوئی طویل علاج یا سرجری تو درکنار، معمولی علاج معالجے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے۔

جمال افزا سرجری

افغانستان میں معاشی بدحالی اور معاشرتی مسائل کی بھر مار کے باوجود سینکڑوں امیر افراد اپنے چہرے اور جسم کو خوبصورت بنانے کے لیے پلاسٹک سرجری کرواتے ہیں جو انتہائی مہنگی ہوتی ہے۔ ناک کی ساخت کو بہتر کراونے، چہرے اور گردن وغیرہ کی جُھریاں دور کروانے اور جسم کو سڈول اور پُرکشش بنانے کے لیے بہت سی خواتین اور مرد پلاسٹک سرجری کا سہارا لیتے ہیں۔

Bildergalerie Opfer politischer Gewalt in Bangladesch 2015

جنگ زدہ ممالک میں بہت سے افراد بمباری کا نشانہ بن کر جسم کے کسے حصے کے ناکارہ ہونے یا جھُلس جانے کے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں

پلاسٹک سرجن عبدالغفار غیور کے پاس آنے والوں میں زیادہ تر افغانستان کے اراکین پارلمیان بڑے بڑے بزنس مین اور دیگر امیر افراد شامل ہوتے ہیں۔ یہ افراد اپنی پلاسٹک سرجری کے بارے میں معلومات یا تو آن لائن یا پھر بیرون ملک سفر کے دوران حاصل کرتے ہیں اور یہ زیبائشی پلاسٹک سرجری کے لیے ہزاروں امریکی ڈالر بھی خرچ کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

امیروں سے کما کر غریبوں کی سرجری

افغانستان میں یہ ایک نسبتاً نیا رجحان ہے کہ امیر افراد کی سرجری کر کے حاصل کی جانے والی رقوم کو ایسےغریب و نادار افراد کے علاج پر خرچ کیا جائے جو کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہیں جس کا علاج سرجری کر کے ہی ممکن ہے یا ایسے افراد جو کسی پیدائشی بیماری یا معذوری کا یا پھر پوسٹ ٹرامیٹک زخموں کے سبب اپنے جسم کے کسی حصے کے نقص میں مبتلا ہیں، مگر علاج یا سرجری کے اخراجات اُٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، کا علاج ممکن بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ افغانستان میں اوسط ماہانہ تنخواہ یا اُجرت 35 ڈالر ہے۔

سرجن غیور کا کہنا ہے کہ بہت سے ایسے مریض اپنے مرض یا معذوری وغیرہ کے بالکل آخری مرحلے میں علاج کے لیے آتے ہیں اور اُس وقت انہیں فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے، ’’اگر ایک مریض آ کر کہے کہ وہ محض 100، 20 یا 30 ڈالر ادا کر سکتا ہے تو میں اسے قبول کر لیتا ہوں‘‘۔ سرجن غفار کا مزید کہنا تھا،’’اگر ہم سرجری یا علاج کے اخراجات پورے ہونے کا انتظار کرنے لگیں تو مریض کے بچنے کے امکانات اکثر بہت کم رہ جاتے ہیں‘‘۔

Säureattentat Entstellung Säure Gesicht Frau Opfer Attentat

ایسڈ وکٹم یا تیزاب کے حملے کا شکار ہونے والی خواتین کو بھی پلاسٹک سرجری کی سخت ضرورت ہوتی ہے

سرجن کے بقول،’’میں نے جلد کے سرطان کے بہت سے مریضوں کا مفت علاج کیا ہے۔ ان میں سے چند میں چھوٹے ٹیومرز یا رسولیاں پائی جاتی تھیں اور اُن کی شفایابی کے امکانات 100 فیصد تھے‘‘۔

سرجن غفار غیور کے مطابق 2013 ء میں کابل میں اُن کی سرجری کلینک کے قیام سے لے کر اب تک وہ 500 مریضوں کی پلاسٹک سرجری کر چُکے ہیں۔ افغانستان میں ناک کی پلاسٹک سرجری بہت عام ہے۔ ناک کی سرجری کروانے والے افراد میں سب سے زیادہ ہزارہ اقلیتی گروپ سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں جو اپنی منفرد نظر آنے والی مخصوص ایشیائی ناک کو نارمل نظر آنے والی بنوانا چاہتے ہیں۔

DW.COM