1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

امید ہے ترکی مہاجرین کی ڈیل کا احترام کرے گا، جرمن وزیرداخلہ

جرمن وزیرداخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ انقرہ حکومت گزشتہ برس یورپی یونین کے ساتھ مہاجرین کے موضوع پر طے پانے والے معاہدے کا احترام کرے گی۔

پچھلے برس مارچ میں طے پانے والے معاہدے میں ترکی کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنے ہاں سے مہاجرین کو بحیرہء ایجیئن عبور کر کے یونان پہنچنے سے روکے جب کہ اس کے بدلے ترک باشندوں کو شینگن ممالک کے ویزا فری سفر کی اجازت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم اس معاملے میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی ہے، جس پر ترکی برہم ہے۔

بدھ کے روز ترک وزیرخارجہ مولود چاؤش اولو نے دھمکی دی تھی کہ انقرہ حکومت اس معاہدے کو منسوخ کر سکتی ہے۔

جمعے کو اپنے ایک بیان میں تھوماس ڈے میزیئر نے کہا، ’’مجھے ترکی کی جانب سے سننے کو مل رہا ہے کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ ہم اس معاہدے پر عمل درآمد کی بھیک مانگیں۔‘‘

متعدد جرمن صوبوں کے وزرائے داخلہ سے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں ڈے میزیئر نے کہا، ’’یہ ایک معاہدہ ہے، جس پر ہم عمل درآمد کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ترکی بھی ایسا ہی کرے گا۔‘‘

Griechenland Unbegleitete Jugendliche Flüchtlinge (Getty Images/AFP/B. Kilic)

ترکی میں لاکھوں مہاجرین موجود ہیں

یہ بات اہم ہے کہ سن 2015ء میں شام، عراق، افغانستان اور متعدد دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک ملین سے زائد مہاجرین نے بحیرہء ایجیئن عبور کر کے یورپی یونین میں داخل ہو کر سیاسی پناہ کی درخواستیں دی تھیں۔ تاہم گزشتہ برس مارچ کے آخر میں اس معاہدے کے بعد یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

جمعے کے روز جرمن حکومت کے ایک ترجمان نے بھی بتایا کہ فی الحال انقرہ حکومت کی جانب سے اس ڈیل کو معطل کرنے کے اشارے نہیں مل رہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اب بھی ترکی سے یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد خاصی کم ہے۔

یورپی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال وہ اس ڈیل کے ختم ہونے سے متعلق پریشان نہیں ہیں، کیوں کہ اب تک یورپی یونین اس معاہدے کی مد میں ترکی میں مقیم شامی باشندوں کی مدد کے لیے سات سو ستتر ملین یورو خرچ کی چکی ہے۔

تھوماس ڈے میزیئر نے کہا کہ ترکی کی جانب سے روز بہ روز اشتعال انگیز بیانات سامنے آ رہے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ترکی متاثرہ ملک ہے۔