1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امید ہے برطانیہ بریگزٹ کے فیصلے پر قائم رہے گا، میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے امید ظاہر کی ہے کہ حالیہ انتخابات کے غیر متوقع نتائج کے باجود برطانیہ یورپی یونین کو چھوڑنے کے اپنے منصوبے پر قائم رہے گا۔ میرکل نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ یہ مذاکرات جلد از جلد شروع ہوں۔

برطانیہ میں جمعرات آٹھ جون کو ہونے والے عام انتخابات میں وزیراعظم ٹریزا مے کو حتمی پارلیمانی اکثریت حاصل نہیں ہو سکی۔ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے ان مذاکرات کے لیے بہتر مینڈیٹ حاصل کرنا چاہتی تھیں اور قبل از وقت انتخابات کا انعقاد بھی انہوں نے اسی مقصد سے کرایا، تاہم ان کی جماعت تنہا حکومت سازی کے لیے درکار پارلیمانی اکثریت سے حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور اب خدشات ہیں کہ انہیں جماعت کے اندر اور باہر سے ان مذاکرات کے حوالے سے مزاحمت کا سامنا کرنا ہو گا۔

اپنے دورہ میکسیکو کے موقع پر میکسیکو سِٹی میں میرکل نے کہا کہ جرمنی بریگزٹ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔  ٹریزا مے کی طرف سے پیش کردہ منصوبے کے مطابق بریگزٹ مذاکرات کا آغاز 19 جون سے ہونا ہے۔

میکسیکو کے صدر اینریکے پینا نیتو کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میرکل کا کہنا تھا، ’’میرا خیال ہے برطانیہ اور جیسا کہ میں نے آج وزیراعظم (ٹریزا مے) کی جانب سے سنا بھی، مذاکرات کے منصوبے پر عملدرآمد کا ارادہ رکھتا ہے۔‘‘

میرکل کا مزید کہنا تھا، ’’ہم جلد از جلد مذاکرات چاہتے ہیں، ہم ٹائم ٹیبل پر عمل چاہتے ہیں اور میرا نہیں خیال کہ اس وقت ایسی کوئی وجہ ہے جو مذاکرات کے طے شدہ وقت پر شروع نہ ہونے کا اشارہ کرتی ہو۔‘‘

برطانوی سیاستدان بریگزٹ مذاکرات کے معاملے پر منقسم ہیں۔ ان کے خیال میں یہ مذاکرات مستقبل کے لیے راہ متعین کر سکتے ہیں کہ آیا برطانیہ دائیں بازو کی طرف ہو گا یا بائیں۔ جبکہ لیبر اور کنزرویٹیو دونوں جماعتوں میں ایسے سیاستدان بھی موجود ہیں جو سرے سے بریگزٹ کے حامی ہی نہیں ہیں اور یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ہیں۔

میکسیکو سٹی میں اپنی پریس کانفرنس کے دوران میرکل کا یہ بھی کہنا تھا کہ بریگزٹ سے قطع نظر برطانیہ یورپ کا حصہ ہی تھا اور وہ چاہتی ہیں کہ یہ ملک ایک اچھا پارٹنر رہے۔ میرکل کے مطابق تاہم یورپی یونین کے بقیہ 27 ممالک کے مفادات کا بھی معاملہ ہے کیونکہ بریگزٹ مذاکرات دراصل یورپی یونین کے مستقبل کا بھی تعین کریں گے۔