1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امیدوں سے مصائب تک: کرزئی کے دور صدارت کا میزانیہ

حامد کرزئی کی مقبولیت خود اپنے ملک میں بہت تیزی سے کم ہوئی ہے۔ کرزئی جو کبھی مغرب کے لئے پسندیدہ سیاستدان تھے، آج عالمی برادری کا اعتماد کھو چکے ہیں۔

default

افغان صدر حامد کرزئی

Karsai unter Druck

حامد کرزئی یقینا اس بات پر نازاں ہو سکتے ہیں کہ وہ افغانستان کی تاریخ کے پہلے منتخب صدر ہیں

افغانستان کے آئین کی شق نمبر 61 کے مطابق 21 مئی کو حامد کرزئی کا 5 سالہ صدارتی دور ختم ہو رہا ہے۔ ملک کی انصرامی اور سلامتی کی ابتر صورتحال کے سبب افغان الیکشن کمیشن نے آئندہ صدارتی انتخابات کی تاریخ بڑھا کر 20 اگست کر دی ہے۔ اس پر افغان عدالت عالیہ ’استراھ محکمہ‘ نے ایک متنازعہ فیصلہ کرتے ہوئے حامد کرزئی کے عہدے کی مدت میں الیکشن کے انعقاد تک کے لئے توسیع کر دی۔

حامد کرزئی یقینا اس بات پر نازاں ہو سکتے ہیں کہ وہ افغانستان کی تاریخ کے پہلے منتخب صدر ہیں اور حقیقت میں بھی 2004 میں رائے دہندگان نے 55 فیصد ووٹ دے کر انہیں یہ حکومتی ذمہ داری سونپی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں مغرب خاص طور سے امریکہ کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہوئی۔ تمام تر دشمنیوں کے باوجود ہمسایہ ممالک نے بھی اس امر پر اتفاق کا اظہار کیا کہ ماہر سیاسیات حامد کرزئی کو کثیرالنسلی ریاست افغانستان کی باگ ڈور سمبھالنی چاہئے۔

Angela Merkel und Hamid Karsai in Berlin

حامد کرزئی اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل

یہ کرزئی کے لئے ایک سنہری موقع تھا، ملک کی تعمیر نو کے کاموں کے تاریخی چیلنجز سے نمٹتے ہوئے جنگ سے تباہ حال افغانستان کو صحیح سمت میں گامزن کرنے کا۔ آٹھ سال بعد بھی افغان عوام کو اپنے وطن میں امن کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ تعمیر نو کے کاموں کی شروعات کے جوش و خروش کے بعد افغانستان کی اقتصادی ترقی کا عمل رک گیا ہے۔ غریب اور امیر کے مابین فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ کرزئی کو ان کی ناقص پالیسیوں، حکومت میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور منشیات کا کاروبار کرنے والے مافیا گروپوں کی سرگرمیوں میں اضافے کے سبب بین الاقوامی اور ملکی تنقید کا سامنا ہے۔

افغان صدر کو اس وقت سب سے زیادہ دشواریوں کا سامنا ملکی سلامتی کی صورتحال میں روز افزوں خرابی کے سبب ہے۔ عالمی برادری کے لئے بھی ،جس نے ہندو کش میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے، افغانستان کی صورتحال میں بہتری کی امید روز بروز مدھم پڑتی جا رہی ہے۔

Schüsse auf afghanischen Präsidenten Hamid Karzai

ایشیائی بادشاہتوں کی روایات کے پاسدار حامد کرزئی آخر آخر لمحوں تک سیاسی اسٹیج چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے

افغانستان کے کثیر النوع بحران کو کسی قیمت پر بھی محض نا خوشگوار اتفاقات سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ یہ دراصل تعمیر نو کی ناقص پالیسی کا ٹھوس نتیجہ ہے ، جس کے ذمہ دار حامد کرزئی کو خود یہ بوجھ اٹھانا چاہئے۔ بجائے اپنے ملک اور عوام کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے کسی لائحہ عمل کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد کی کوششوں کے، حامد کرزئی اپنی سیاسی قوت میں اضافے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔ انھوں نے علاقائی ملیشیا رہنماؤں کے ساتھ ساز باز کی اور اسلام پسند عناصر کو سیاسی رعایت دی ہے۔ انھوں نے طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ خفیہ مذاکرات سے بھی گریز نہیں کیا۔

افغان صدر کے اس رویئے کے نتیجے میں سیاسی اکابرین کے ترجمانوں نے سیاسی قوت کو اپنی اجارہ داری میں لے لیا جبکہ قابل اور حقدار افراد کو سیاسی منظر نامے سے دور کردیا گیا۔

حامد کرزئی کی مقبولیت خود اپنے ملک میں بہت تیزی سے کم ہوئی ہے۔ کرزئی جو کبھی مغرب کے لئے پسندیدہ سیاستدان تھے، آج عالمی برادری کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ ایشیائی بادشاہتوں کی روایات کے پاسدار حامد کرزئی آخر آخر لمحوں تک سیاسی اسٹیج چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ ملک کے جمہوری آئین کی نوازش۔ اب تک افغان صدارتی امیدواروں کی تعداد 43 بنتی ہے اور اب کرزئی خود کو 44 واں امیدوارنامزد کریں گے۔

DW.COM