1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امن کے نوبل انعام کی تقسیم: مخالفت اور حمایت جاری

آج ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں رواں سال کے نوبل انعام برائے امن کی تقسیم کی تقریب کا انعقاد ہے۔ کم از کم سترہ کے قریب اقوام نے اس تقریب کی دعوت کو مسترد کردیا ہے۔

default

نوبل کمیٹی کے چیرمین Thorbjoern Jagland کا کہنا ہے کہ جو ایوارڈ چین میں مقید انسانی حقوق کے سرگرم کارکن لیو جیاوبو کو دیا جارہا ہے وہ عالمی انسانی حقوق کے احترام کا تسلسل ہے اور یہ چینی عوام کے لئے ایک اعزاز ہے۔ نوبل فاؤنڈیشن نے جیاوبو کی غیر مسلح جد وجہد کی بہت زیادہ پذیرائی کی ہے۔

منتظمین کے مطابق حکومت مخالف ایک چینی کونوبل انعام کا دینا اس بات کا غماز نہیں کہ اس سے چینی معاشرے پر مغربی اقدار کو زبردستی تھوپنے کی کوئی کوشش ہے۔

Schweden Norwegen Nobelpreis Medaille von Alfred Nobel

نوبل انعام کے میڈل پر کنندہ الفریڈ نوبل کی تصویر

نوبل کمیٹی کے چیئرمین کا مزید کہنا ہے کہ یہ انعام خود چین کے مستقبل کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ وہ عالمی سطح پر ایک اقتصادی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ژاگلینڈ کا مزید کہنا تھا کہ نوبل انعام چینی عوام کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ وہ سیاسی اصلاحات کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ سن 1989ء کے تیاننمین اسکوائر کے مظاہروں کے دوران بھی لیو جیاوبو کا کردار اہم تھا۔ ان کی عمر 54 برس ہے اور وہ 11 سال کی قید کاٹ رہے ہیں۔ جیاوبو کو یہ سزا حکومت مخالف سرگرمیوں میں شرکت کرنے پر گزشتہ سال سنائی گئی تھی۔ انعام کی تقریب کے حوالے سے امریکہ کی جانب سے تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کاش یہ انعام لیوجیاوبو خود وصول کرتے تو بہت بہتر ہوتا۔

سن 1936 ء کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا کہ امن نوبل انعام وصول کرنے والی شخصیت تقریب میں موجود نہیں ہو گی۔ میانمار کی نوبل انعام یافتہ سیاسی رہنما آؤنگ سان سوچی نے بھی لیو جیاوبو کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ہے۔ مقید چینی لیڈر کی اہلیہ Liu Xia بھی انعام کے اعلان کے بعد سے گھر پر نظربند ہیں۔

دوسری جانب بیجنگ حکومت نے واضح اعلان کردیا ہے کہ جو اقوام امن کے نوبل انعام کی تقریب میں شرکت کریں گی ان کا عمل چین کا احترام نہ کرنے کا عکاس ہو گا۔ چین کی جانب سے نوبل انعام دینے والی کمیٹی کو جانبدار قرار دینے کی کوششوں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ یا ہے۔

China Peking National People's Congress NPC Flash-Galerie

چین نے واضح کیا ہے کہ اس تقریب میں جو ملک بھی شریک ہوگا اس کا یہ عمل چین کا احترام نہ کرنے کا عکاس ہوگا

اوسلو کے سٹی ہال میں ہونے والی تقریب کی دعوت جن ملکوں کی جانب سے مسترد کی جا چکی ہے ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ چین کی حمایت میں روس، ویتنام، قزاقستان، وینزویلا، کیوبا، تیونس، مراکش، سوڈان، الجزائر، سعودی عرب، عراق، مصر، افغانستان اور سری لنکا شامل ہیں۔ ان میں بعض مسلمان ملکوں کے اندر چین کی جانب سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی جا چکی ہے۔ اوسلو میں قائم دیگر 45 سفارت خانے اس تقریب میں شریک ہوں رہے ہیں۔

چین کی جانب سے پہلے کنفیوشس پیس پرائز کی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ یہ انعام تائیوان کے سابق نائب صدر لین چان کو دیا گیا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس