1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

امن کے لئے پاکستان اور بھارت کی ٹینس پارٹنرشپ

ٹینس کے پاکستانی کھلاڑی اعصام الحق قریشی اور ان کے ڈبلز پارٹنر بھارتی کھلاڑی روہن بوپانا ومبلڈن کے تیسرے راؤنڈ میں پہنچ گئے ہیں۔ انہیں یہ کامیابی ایسے وقت ملی ہے، جب اسلام آباد اور نئی دہلی حکام بھی ملاقات کر رہے ہیں۔

default

یہی وجہ ہے کہ ٹینس کے کھیل میں اعصام اور بوپانا کی شراکت کو روایتی حریف ان ممالک کے درمیان پرامن تعلقات کی کوششوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے وہ خود بھی سرگرم ہیں۔ ومبلڈن میں انہیں ایسے ٹریک سوٹس پہنے پریکٹس کرتے دیکھا گیا، جن پر درج تھا، Stop War Start Tennis یعنی جنگ بند کر کے ٹینس کھیلنا شروع کریں۔ اے ٹی پی کے اس ورلڈ ٹور کے حوالے سے انہیں ’انڈو پاک ایکسپریس‘ بھی کہا جاتا ہے۔

گزشتہ ہفتے موناکو کے شہزادہ البرٹ کی سرپرستی میں چلنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم نے روہن بوپانا کو امن کے چیمپیئن کے طور پر بھی نامزد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس ٹائٹل کو بھارت میں امن کے لئے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ اعصام الحق کا کہنا ہے کہ ٹینس کے ذریعے امن کے پیغام کا فروغ انتہائی اہم ہے۔

ان دونوں کھلاڑیوں نے اپنا پہلا اے ٹی پی ٹور ٹائٹل فروری 2010ء میں جوہانسبرگ میں جیتا۔ وہ تب سے ہی دیگر ٹورنامنٹس میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آ رہے ہیں۔

واض‍ح رہے کہ اعصام قبل ازیں اسرائیلی کھلاڑی عامر حاداد کے ساتھ بھی پارٹنر شپ بنا چکے ہیں، جس پر پاکستان ٹینس فیڈریشن نے ناپسندیدگی ظاہر کی تھی۔ تاہم اعصام اور حاداد کو اپنی کمیونٹیوں کی مخالفت کے باوجود ایک ساتھ کھیلنے پر 2003ء میں Arthur Ashe Humanitarian ایوارڈ دیا گیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM