1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امن کی بحالی کا مشن، فرانسیسی صدر سعودی عرب میں

سعودی عرب، کویت اور بحرین کی طرف سے اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑ دینے کی ہدایات کے بعد اور اس خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں ایک غير اعلانيہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔

فرانسیسی صدر خطے میں امن کی بحالی اور کشيدگی ميں کمی کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فرانسیسی صدر نہ صرف اپنا پیغام سعودی حکام تک پہنچائیں گے بلکہ وہ اس حوالے سے یورپ کے دیگر ممالک کا موقف بھی پیش کریں گے۔ ریاض روانگی کے سے پہلے فرانیسسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ ایران، یمن اور کی صورتحال کے حوالے سے مذاکرات کریں گے۔

’زندگی خطرے میں ہے‘، لبنانی وزیر اعظم نے استعفیٰ دے دیا

فرانسیسی صدر کا مشرق وسطیٰ کا یہ پہلا دورہ ہے اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ جمعرات کو رات گئے ہونے والی ملاقات میں انہوں نے لبنان کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی ہے۔ لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری نے ایک ہفتہ قبل سعودی عرب میں آ کر مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ انہوں نے لبنانی تنظیم حزب اللہ پر ایران کی ’گرفت‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔

فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے ایران کے حوالے سے اپنا موقف انتہائی سخت کر دیا ہے اور یہ کہ ان کے لیے فریقین سے ملنا انتہائی ضروری ہے تاکہ امن کے لیے ثالث کا کردار ادا کیا جا سکے۔ سعودی پریس ایجنسی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’فرانسیسی صدر نے حوثی باغیوں کی طرف سے کیے جانے والے میزائل حملے کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔‘‘

’ایران عرب دنیا کے بحرانوں کے حل میں رکاوٹ ہے‘

فرانسیسی صدر کا دورہ اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ لبنان میں انتشار کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے کیوں کہ لبنان سنی، شیعہ اور مارونی عیسائیوں میں تقسیم ہے۔ کسی ایک فریق کو بھی حکومت سازی سے نکالنے کا مقصد ملک میں انتشار کو دعوت دینا ہے۔

بہت سے لبنانی اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ حریری نے اپنی جان کو لاحق خطرے کی وجہ سے استعفیٰ دیا ہے۔ لبنان کی طاقتور شیعہ تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے مطابق انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا ہے۔ سعد حریری ابھی تک ایسے مطالبوں کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ انہیں لبنان واپس آ جانا چاہیے۔

DW.COM