1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’امن پائپ لائن‘ خطے میں کشیدگی کا باعث

قدرتی گیس کے ذخائر کے حوالے سے ایران دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ ایران میں قدرتی گیس کے وسیع تر ذخائر کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک اس سے گیس کے معاہدے کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان میں ایک پاکستان بھی ہے۔

default

سن 2014ء تک ایران اور پاکستان کے مابین دو ہزار کلو میٹر طویل ایک پائب لائن کی تعمیر مکمل ہو جائے گی۔ ایرانی گیس کی بدولت پاکستان اپنے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے قابل ہو سکے گا۔ اگرچہ اس پائپ لائن کا نام ’امن پائپ لائن‘ ہے تاہم اس کی وجہ سے گزشتہ ایک عشرے سے کئی مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔

ابتدائی طور پر جنوبی ایشیائی ملک بھارت بھی اس پائپ لائن پراجیکٹ میں شامل تھا۔ لیکن دہلی حکومت نے سن 2008ء میں اس منصوبے سے علیٰحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔

Erdgas NO FLASH

دو ہزار کلو میٹر طویل یہ گیس پائب لائن سن 2014ء تک مکمل ہو جائے گی

اس ڈیل کو منسوخ کرنے کی سرکاری وجہ یہ بیان کی گئی کہ اسلام آباد حکومت نے ٹرانزٹ ٹیکس بہت زیادہ رکھا ہے۔ بھارت سرکار اس پر بھی شک کا شکار تھی کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے گزر کر بھارت پہنچنے والی اس پائپ لائن کی سیکورٹی کی گارنٹی دی جاسکتی ہے یا نہیں۔ صوبہ بلوچستان کے کئی حصوں میں بغاوت کے باعث حالات کشیدہ ہیں۔

دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت نے اس پائپ لائن ڈیل کو امریکی دباؤ میں آکر منسوخ کیا۔ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کی وجہ سے امریکہ کی کوشش ہے کہ تہران حکومت کو تنہا کیا جائے اور واشنگٹن حکومت نے کھلے عام اس پائپ لائن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پاکستان اگرچہ امریکہ کے اس دباؤ میں نہیں آیا تاہم بقول ناقدین بھارت نے امریکہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹیجک نوعیت کے تعلقات کی بنا پر اس ڈیل کو ختم کر دیا۔

ابھرتی ہوئی معیشت بھارت کو اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے توانائی کے ذرائع کی ضرورت ہے اور وہ اس کو پورا کرنے کے لیے ایران سے گیس درآمد کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود دہلی تہران کے ساتھ قریبی سیاسی تعلقات سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

Erdgas NO FLASH

کہا جاتا ہے کہ بھارت نے امریکی دباؤ میں آکر اس گیس پائپ لائن کی ڈیل منسوخ کی

اس صورتحال میں دو بڑی علاقائی طاقتیں یعنی چین اور روس امریکی تحفظات کی کوئی پرواہ نہیں کرتیں۔ دہلی یونیورسٹی سے منسلک تجزیہ نگار قمر آغا کے بقول انہی دونوں ممالک کی بدولت ایران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کے باوجود اقوام متحدہ میں اکیلا نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران حکومت کے ہر مشکل وقت میں روس اور چین نے اس کا ساتھ دیا ہے۔

قمر آغا کے بقول بھارت کی طرف سے ایران کو سرد مہری دکھانے کے بعد چین نے اس کا خوب فائدہ اٹھایا ہے اور ایران میں خوب سرمایہ کاری کی ہے، ’ چینی حکومت نے ایران میں سڑکیں بنائی ہیں، ریلوے پراجیکٹ مکمل کیے ہیں اور ایسے ہی دیگر تعمیراتی منصوبوں کو مکمل کیا ہے۔ تہران حکومت چین اور روس کے ساتھ اپنی دوستی کو مغربی ممالک کے ساتھ مقابلہ بازی کے لیے استعمال کرتا ہے‘۔ ان کے بقول بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ بھی ان تینوں ممالک کے باہمی تعلقات پر خوش نہیں ہے۔

رپورٹ: پریا ایسلبورن

ترجمہ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM