1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’امن مذاکرات کے لیے تاریخ طے نہ ہو سکی‘

پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکریٹریوں نے بھوٹان کے دارالحکومت تھمپومیں ملاقات کی ہے، لیکن حریف پڑوسی ممالک امن مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی بھی حتمی تاریخ مقرر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

default

سلمان بشیر اپنی بھارتی ہم منصب کے ساتھ

دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے بھارتی سیکریٹری خارجہ نروپما راؤ اور ان کے پاکستانی ہم منصب سلمان بشیر نےعلاقائی تعاون کی جنوبی ایشیائی تنظیم سارک کانفرنس کے موقع پر ملاقات کی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات سن دو ہزار آٹھ میں ممبئی حملوں کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں۔ ممبئی حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ قبل ازیں مذاکراتی عمل کی بحالی کے لیے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا کے ساتھ گزشتہ برس جولائی میں اسلام آباد میں ملاقات کی تھی۔

Gespräche Indien Pakistan

’میر ی توقعات یہ ہیں کہ ہمیں تسلسل سے رابطوں کو فروغ دینا ہوگا۔‘

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وشنو پرکاش نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان اتوار کو ہونے والی ملاقات میں ’مفید اور واضح‘ بات چیت کی گئی۔ تاہم دونوں ممالک امن مذاکرات کی بحالی کے لئے کوئی بھی حتمی تاریخ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ مذاکرات سے پہلے بھارتی خارجہ سیکریٹری کا کہنا تھا، ’اگر بھارت اور پاکستان تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان گفت و شنید انتہائی ضروری ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’ہم کھلے ذہن اور تعمیر ی رویے کے ساتھ بات چیت میں حصہ لیں گے۔‘پاکستانی خارجہ سیکریٹری سلمان بشیر کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں توجہ نئی دہلی میں مارچ میں ہونے والی دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہوئی بات چیت پر مرکوز رہے گی۔ پاکستانی خارجہ سیکریٹر ی نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اپنی بھارتی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا، ’میر ی توقعات یہ ہیں کہ ہمیں تسلسل سے رابطوں کو فروغ دینا ہوگا۔‘

سارک ممالک کے وزرائے خارجہ کی اس کانفرنس میں پاکستانی وزیر خارجہ حصہ نہیں لے رہے جبکہ کرشنا بھارت کی نمائندگی کے لیے آٹھ فروری کو تھمپو پہنچیں گے۔

1947ء سے لے کر آج تک سرحدی تنازعات پر دونوں ممالک کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ ان میں سے دو جنگیں مسئلہ کشمیر پر ہوئیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے شدت پسند کشمیر میں گوریلا جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM