1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امن مذاکرات میں شرکت کے لیے افغان طالبان کی شرائط

قطر میں ایک غیر رسمی اجتماع میں شریک افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں پندرہ سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے موضوع پر مذاکرات میں تب شامل ہوں گے، جب پہلے ان کا نام اقوام متحدہ کی ’بلیک لِسٹ‘ سے نکالا جائے گا۔

Katar Büro der Taliban in Doha

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے دفتر کا ایک منظر

افغان طالبان کے مطابق اقوام متحدہ کو وہ قرارداد منسوخ کر دینی چاہیے، جس کی رُو سے طالبان کے اثاثے منجمد ہیں اور سرکردہ شخصیات کے سفر پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ قطر میں ایک غیر سرکاری تنظیم ’پَگ واش‘ کے زیر رہتمام منعقد ہونے والے ایک غیر رسمی اجتماع میں شریک طالبان کے ایک نمائندے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا:’’ہم نے اُن کو آگاہ کر دیا ہے کہ پہلے آپ ہمیں اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے خارج کریں اور ہمیں پوری دنیا میں آزادانہ سفر کی اجازت دیں، اُس کے بعد ہی ہم امن مذاکرات منعقد کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔‘‘

اس اجتماع کا اہتمام کرنے والی تنظیم ’پَگ واش‘ کو تنازعات میں ثالثی کے سلسلے میں خدمات انجام دینے پر 1995ء میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ دوحہ میں یہ دو روزہ اجتماع 23 جنوری ہفتے کے روز شروع ہوا تھا۔

اس اجتماع میں افغانستان کے سیاستدان اور سول سوسائٹی کے ارکان افغان طالبان کے پندرہ نمائندوں کے ساتھ افغانستان کے مستقبل پر بات چیت کر رہے ہیں۔ خبر رساں اداروں کی متفقہ رپورٹوں کے مطابق پہلے روز ’گرما گرم‘ تبادلہٴ خیال دیکھنے میں آیا۔ غیر سرکاری تنظیم ’پَگ واش‘ کے نمائندے پاؤلو کوٹا راموسینو نے بتایا کہ پہلے روز کی کارروائی کے دوران کابل میں میڈیا کے خلاف طالبان کا حالیہ دہشت گردانہ حملہ بھی زیرِ بحث لایا گیا۔ اسی طرح طالبان نے افغانستان میں امریکی موجودگی کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

’پَگ واش‘ نے اس سے پہلےمئی 2015ء میں بھی ایسے ہی ایک اجتماع کا اہتمام کیا تھا، جس میں افغان حکومت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو طالبان کے ساتھ مل بیٹھنے اور تبادلہٴ خیال کرنے کا موقع ملا تھا۔ تب اس اجتماع کو کافی سراہا گیا تھا۔ گزشتہ سال کے اجتماع کے برعکس اس مرتبہ افغان حکومت کا کوئی بھی نمائندہ قطر کے دارالحکومت میں جاری اجتماع میں شریک نہیں ہے۔ کابل میں حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ الزام سننے میں آیا ہے کہ دوحہ میں ہونے والی یہ کانفرنس ا فغان حکومت کی پہلے سے جاری امن کوششوں کو کمزور کرے گی۔

افغانستان، پاکستان، چین اور امریکا نے گزشتہ سال دسمبر میں افغانستان میں امن کے قیام کے لیے ایک اتحاد تشکیل دیا تھا۔ نمایاں بات یہ ہے کہ ’پَگ واش‘ کے گزشتہ سال کے اجتماع کے برعکس افغان سول سوسائٹی کے کئی اہم نمائندے بھی موجودہ کانفرنس میں شریک نہیں ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ چند ایک کو ویزا ہی جاری نہیں کیا گیا اور ایسا غالباً افغان حکومت کے دباؤ کی وجہ سے کیا گیا۔

Katar Doha Taliban Vertreter Diplomatie

اٹھارہ جون 2013ء کو قطر کے خارجہ امور کے نائب وزیر علی بن فہد الحجری اور طالبان کے ایک نمائندے جان محمد مدنی مل کر دوحہ میں طالبان کے دفتر کا افتتاح کر رہے ہیں

دوحہ میں جاری دو روزہ اجتماع کے شرکاء کی کوئی فہرست جاری نہیں کی گئی تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ اس کانفرنس میں شریک تقریباً چالیس شخصیات میں افغانستان کے سابق وزیر خزانہ انوار الحق احدی اور سابق وزیر داخلہ عمر داؤد زئی شریک ہیں۔ ان دونوں کا تعلق افغان اپوزیشن سے ہے۔ ان کے علاوہ غالباً پارلیمان کے نمائندے بھی اس کانفرنس میں موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے بھی ایک خاتون مبصر دوحہ منعقدہ اجتماع میں شرکت کر رہی ہیں۔ ’پَگ واش‘ کے نمائندے پاؤلو کوٹا راموسینو کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے ’وزارتِ خارجہ کا ایک سابق نمائندہ‘ شرکت کر رہا ہے۔ کوٹا راموسینو نے بتایا کہ طالبان کی جانب سے قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے اراکین اس کانفرنس میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان طالبان کی قیادت شیر محمد عباس ستانکزئی کر رہے ہیں، جو پہلے بھی مختلف مذاکرات میں طالبان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ وہ طالبان کے دورِ حکومت میں نائب وزیر خارجہ اور نائب وزیر صحت ہوا کرتے تھے۔