1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امن مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے، افغان طالبان

افغان طالبان نے کابل کے ساتھ امن عمل کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ طالبان کے مطابق غیر ملکی فورسز کے مکمل انخلاء تک امن مذاکرات میں شرکت نہیں کی جائے گی۔

Symbolbild Terrorismus Afghanistan

طالبان کے مطابق پہلے افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کو ان پر حملے روکنا ہوں گے اور واپس جانا ہو گا

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے افغان طالبان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کے نمائندے افغانستان میں قیام امن کے عمل کی خاطر کابل کے ساتھ اشتراک نہیں کریں گے۔ ہفتہ پانچ مارچ کو طالبان کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ پہلے افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کو ان پر حملے روکنا ہوں گے اور واپس جانا ہو گا۔

DW.COM

طالبان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے نمائندوں اور افغان حکومت کے مابین مذاکراتی عمل کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ طالبان کے نمائندوں اور کابل کے اہل کاروں کے مابین براہ راست مجوزہ امن مذاکرات آیندہ ہفتے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد کیے جانا تھے۔

کابل حکومت نے ان مذاکرات کو اس شورش زدہ ملک کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ یہ قیام امن کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوں گے۔ تاہم اب طالبان نے واضح کر دیا ہے کہ باغی اس امن عمل کا حصہ نہیں ہوں گے۔ طالبان کے اس تازہ اعلان کو افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

افغان حکومت کے ساتھ تعطلی کے شکار امن مذاکرات کی بحالی کو مسترد کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا، ’’ہم اپنے مطالبے کو دہرانا چاہتے ہیں کہ جب تک افغانستان میں غیر ملکی فورسز کا قبضہ ختم نہیں ہوتا، جب تک طالبان کے نام کالعدم افراد کی بین الاقوامی فہرست سے خارج نہیں کیے جاتے اور جب تک قیدیوں کو رہا نہیں کیا جاتا، تب تک مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘‘

طالبان نے امریکی فورسز پر الزام عائد کیا ہے کہ نہ صرف اس نے افغانستان میں اپنے دستوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے بلکہ ساتھ ہی وہ رہائشی علاقوں میں بھی حملوں میں اضافہ کر چکی ہیں۔ طالبان کے مطابق دوسری طرف افغان فورسز بھی باغیوں کے خلاف اپنے عسکری آپریشنز میں تیزی لے آئی ہے۔

Taliban-Sprecher Sabiullah Mudschahid

طالبان کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا کہ ان مذاکرات میں شرکت کی جائے

طالبان کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا کہ ان مذاکرات میں شرکت کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت نے بھی اس تناظر میں کوئی مشاورت نہیں کی ہے۔

مجوزہ مذاکرات میں افغانستان، پاکستان، چین اور امریکا کے سفارت کاروں کو بھی شرکت کرنا تھی۔ ان چاروں ممالک کے مندوبین نے گزشتہ ماہ ہی کابل میں ملاقات کی تھی۔ گزشتہ برس طالبان کے نمائندوں کے براہ راست مذاکرات کی کوشش اس وقت ناکام ہو گئی تھی، جب طالبان کے رہنما ملا عمر کی موت کی خبر منظر عام پر آ گئی تھی۔