1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امن، شالوم اور سلام

جرمنی کے شہروں میں نوجوانوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت وقت گزارتے ہیں، مذہب، ثقافت اور ملک کو بالائے طاق رکھتے ہوئے۔ مستقبل میں بھی ان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئے، اس حوالے سے ایک فاؤنڈیشن نے ایک منصوبہ شروع کیا ہے۔

default

جرمنی ایک کثیر الثقافتی ملک ہے اور اعداد وشمار اس کا ثبوت ہیں۔ تارکین وطن کی اگلی نسل کے افراد کی تعداد تقریباً بیس فی صد ہے۔ خاص طور پر شہروں میں نوجوانوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت وقت گزارتے ہیں، مذہب، ثقافت اور ملک کو بالائے طاق رکھتے ہوئے۔ مستقبل میں بھی ان نوجوانوں کے رویے میں تسلسل  رہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہ پیدا ہو۔ اس حوالے سے جرمنی کی ہربیرٹ کوانڈت فاؤنڈیشن نے ایک بین الامذاہبی منصوبہ شروع کیا ہے۔ جسے امن، شالوم اور سلام کا نام دیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت جرمن دارالحکومت برلن کے ایک  چرچ  میں ایک مقابلہ منقعد کرایا گیا۔ اس میں بارہ سالہ لازلو نے بھی حصہ لیا۔ لازلو برلن میں چرچ کے تحت چلائے جانے والے ایک اسکول میں چھٹی جماعت کے طالب علم ہیں۔’سہ ثقافتی مکالمت‘ کے مقابلے کے حوالے سے ان کی ٹیم کلیساؤں، مساجد اور سینےگوگ کے بارے میں لوگوں کو

Geteilte Stadt Pyla auf Zypern - Orthodoxe Kirche und muslimische Moschee dicht beieinander

گرجا گھر اور مسجد ایک ساتھ

بتائے گی۔

 لازیو نے بتایا یہ کام بہت اچھی طرح سے چل رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہےکہ انہیں بڑوں کا بہت تعاون حاصل ہے۔

Roland Löffler  ہربیرٹ کوانڈت فاؤنڈیشن  کی جانب سے ’سہ ثقافتی مکالمت‘ نامی اس مقابلے کے انچارج ہیں۔ اس کا مقصد بتاتے ہوئے انہوں نے کہا ’سہ ثقافتی مکالمت‘ کا مطلب ہے اسلام ، مسحیت اور یہودیت کے مابین اتفاق پیدا کرنا ہے۔ یہ منصوبہ اس وقت اپنے پانچویں مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ چوتھے مرحلے میں ان کے پاس ستر بچے تھے۔ اندازہ ہے کہ مستقبل میں تقریباً بیس ہزار بچے اس میں شامل ہونگے اور فاؤنڈیشن نے اس حوالے سے ایک ملین یورو مختلف اسکولوں میں خرچ کئے ہیں۔

اس مرتبہ جوگروپ ’سہ ثقافتی مکالمت‘ کو بہترین انداز سے اسٹیج کے سامنے بیٹھے لوگوں کو سمجھائے گا اسے انعام میں ساٹھ ہزار یورو کا انعام دیا جائے گا۔ اس وقت اس مقابلے میں صرف برلن اور صوبہ ہیسے کے اسکول اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان سب کو تیاری کے لئے ساڑھے تین ہزار یورو ادا کئےگئے ہیں۔ اس سال اکتوبر تک اس مقابلےمیں حصہ لینے کے لئے اسکول اپنے پروجیکٹس پیش کئے جاسکتے ہیں، جس کے بعد فاتح گروپ کا فیصلہ ججز کریں گے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت:  عابد حسین