1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امن سے پہلے جنگ؟ طالبان کا خودکش حملہ، 10 ہلاک

افغان دارالحکومت کابل میں پولیس کے ایک ہیڈکوارٹر کے دروازے پر ہونے والے ایک خودکش بم حملے کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے افغانستان کے ڈپٹی وزیر داخلہ محمد ایوب سالنگی کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس خودکش دھماکے کے نتیجے میں 20 دیگر افراد زخمی بھی ہیں۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے، جب افغانستان میں قیام امن کے لیے بین الاقوامی مذاکرات کے تیسرے راؤنڈ میں چند ہی دن باقی ہیں۔ افغانستان، پاکستان، چین اور امریکا کے نمائندے افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایک روڈ میپ کی تیاری کی کوششوں میں ہیں۔ ان مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ چھ فروری کو اسلام آباد میں ہونا ہے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش کے مطابق خودکش حملہ آور نے ’نیشنل سول آرڈر پولیس فورس‘ کے ہیڈکوارٹرز کے دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ ملکی وزارت داخلہ کی جانب سے قبل ازیں بتایا گیا تھا کہ یہ ایک خودکش کار بم دھماکا تھا تاہم بعد میں کہا گیا کہ حملہ آور پیدل ہی وہاں پہنچا اور بیس کے اندر جانے کے منتظر لوگوں کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

افغان وزارت صحت کے ترجمان محمد اسماعیل کاووسی کے مطابق، ’’کابل کے ہسپتالوں میں لائے جانے والے زیادہ تر زخمی مرد ہیں۔‘‘ وزارت صحت کے مطابق زیادہ تر افراد سینے میں تیز دھار دھاتی ٹکڑے لگنے کے باعث زخمی ہوئے ہیں اور ان میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔

’’کابل کے ہسپتالوں میں لائے جانے والے زیادہ تر زخمی مرد ہیں۔‘‘

’’کابل کے ہسپتالوں میں لائے جانے والے زیادہ تر زخمی مرد ہیں۔‘‘

دوسری طرف طالبان نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں 40 سے زائد پولیس اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے آن لائن جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق، ’’یہ حملہ افغان صوبے قندوز کے ضلع امام صاحب سے تعلق رکھنے والے شہید، مجاہد محمد کی طرف سے کیا گیا۔‘‘

کابل میں طالبان کی طرف سے یہ خودکش حملہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے، جب جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈی میزیئر ایک غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان میں ہیں۔ ان کے اس دورے کا مقصد افغانستان سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی طرف سے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے حوالے سے افغان حکومت سے بات چیت کرنا ہے۔

کابل پولیس کے ترجمان بصیر مجاہد نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو بتائی ہے، مزید یہ کہ زخمیوں کی تعداد 12 ہے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔