1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امن جرگہ راکٹ حملوں کی زد میں

افغان دارالحکومت کابل میں آج سہ روزہ امن جرگے کا آغاز طالبان جنگجوؤں کے خود کُش اور راکٹ حملوں کا شکار ہوکر رہ گیا

default

کابل میں امن جرگہ کے آغاز پر ہی دھماکے سنائی دئے، جس کے بعد افراتفری پھیل گئی

سرکاری ذرائع کے مطابق کابل سے نزدیک اُس مقام پر جہاں اس روایتی جرگے کے شرکاء کے لئے بہت بڑا خیمہ لگایا گیا تھا تین راکٹ برسا‌ئے گئے۔ سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کے باوجود تین مسلحہ برقع پوش نے سلامتی اہلکاروں کی طرف سے بنائے گئے حفاظتی گھیرے کو توڑتے ہوئے جرگہ کی طرف جانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں پولیس کے ساتھ ان جنگجوؤں کا تصادم ہوا۔ جرگہ کے منتظم اعلیٰ فاروق وردک نے اس جھڑپ میں دو عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ تیسرے کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ فاروق وردک نے جرگہ میں شریک مندوبین سے کہا کہ حالات قابو میں ہیں۔ تاہم اس واقعے کے بعد بھی وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔

Friedens-Dschirga in Kabul Afghanistan Hamid Karzai Flash-Galerie

جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے حامد کرزئی نے ملک میں پائیدار امن کے اپنے منصوبے کو متعارف کرانے کی کوشش کی

حملے کےوقت جرگے میں افغان صدر حامد کرزئی سمیت تقریباً 1600 افغان لیڈر اور قبائلی اکابرین موجود تھے۔ پہلا دھماکہ عین اُس وقت سنائی دیا جب صدر کرزئی نے ملک سے طالبان عناصر کو پسپا کرنے اور انہیں مکمل طور پر غیر مسلحہ کرنے سے متعلق اپنے حوصلہ مند امن منصوبے سے آگاہ کرنا شروع ہی کیا تھا۔ یہ دھماکہ کابل سے مغرب کی طرف ایک کھلے میدان میں گرنے والے راکٹ سے ہوا۔ اس موقع پر صدر کرزئی نے جرگہ کے شرکاء کو تسلی دیتے ہوئےکہا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ حامد کرزئی نے تمام مندوبین سے بیٹھ جانے کوکہا کیونکہ ان میں سے اکثر حراساں نظر آ رہے تھے اور وہ جرگے کے خیمے سے نکلنا چاہتے تھے۔ بعد از ایں افغان صدر نے اپنی تقریر کو مختصرکرتے ہوئے حفاظتی قافلے کے ساتھ روانہ ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق متعدد ہیلی کاپٹرز صدر کرزئی کے قافلے کی حفاظت کے لئے فضا میں گردش کرتے دکھائی دئے۔

Friedens-Dschirga in Kabul Afghanistan

امن جرگہ کے انعقاد کے لئے کابل میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

کابل میں مقیم ایک سیاسی تجزیہ نگار ہارون میر نے ایک بیان میں کہا کہ ’ آج جرگہ کے انعقاد کے موقع پر ہونے والا یہ حملہ دراصل کابل میں اس سال منعقد ہونے والی مجوزہ کانفرنس کے لئے ایک اشارہ ہے‘۔ یاد رہے کہ جولائی کی 20 تاریخ کوافغانستان میں ایک اہم کانفرنس کا انعقاد ہونا ہے۔ تجزیہ نگار ہارون میر کےبقول کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مغربی ممالک کے کتنے مندوبین ایسے خطرناک حالات میں کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ امن جرگہ کئی صدیوں سے افغانستان کی ثقافت کا حصہ رہا ہے۔ تاہم اس بار کے اس اجلاس میں طالبان باغیوں کے نمائندوں کو دعوت نہ دینا ایک پریشان کن بات سمجھی جا رہی ہے۔

رپورٹ : کشور مصطفی

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM