1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکی CIA اور قیدیوں پر تشدد

یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں بدنام زمانہ حراستی کیمپ گوانتانامو میں قیدیوں کو اذیتیں پہنچائی جاتی رہیں۔

default

قیدیوں کو گونتامو کے حراستی مرکز کی طرف لے جایا جا رہا ہے

ان میں سے ایک انتہائی تکلیف دہ طریقہ ’’ واٹر بورڈنگ‘‘ ہے۔ جس کے دوران قیدی کا منہ ڈھانپ کر کچھ اس طریقے سے اس پر پانی ڈالا جاتا ہے جس سے قیدی یوں محسوس کر رہا ہوتا ہے جیسے وہ پانی میں ڈوب رہا ہو۔

Gefangener in Guantanamo

گوانتا نامو میں ایک قیدی کو لے جایا جا ریا ہے

بش کے نزدیک یہ ہتھکنڈا اذیت رسانی کے زمرے میں نہیں آتا، جبکہ نئے صدر باراک حسین اوباما کے نزدیک یہ اذیت رسانی ہے۔ اس سال 11جنوری کو اوباما نے ٹیلی ویژن چینل ABC کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا: ’’ میرے خیال میں واٹر بورڈنگ ایک اذیتی ہتھکنڈا ہے۔ میرے دور میں قیدیوں کو اذیتیں نہیں پہنچائی جائیں گیں۔‘‘

اس کے تین ہی دن بعد واشنگٹن پوسٹ نے بش حکومت کی ایک اعلی سرکاری افسر کے حوالے سے یہ خبر شائع کی جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ گوانتانامو میں سعودی عرب کے شہری محمد ال کاحتنی کو اذیتیں پہنچائی گئی ہیں۔ وہ سات سال سےگوانتانامو میں قید ہیں۔ اس دوران انہیں مسلسل سونے سے محروم رکھا گیا۔ جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ دیر تک یخ بستہ پانی میں پھینکا گیا۔ خاتون تفتیشی افسران کے سامنے ننگا کھڑا کیا گیا۔ ان کے گلے میں کتے کی رسی ڈال کرکتوں کی طرح کرتب دکھانے پر مجبور کیا گیا۔

Häftling in Guantanamo

گوانتا نامو کا ایک اور منظر

کوئی شخص بھی پورے وثوق سے نہیں کہ سکتا کہ بش دور میں کتنے قیدیوں کو اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا۔

خود C I A کے سابق ڈاہریکٹر مائیکل ہائیڈن بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ کم از کم تین قیدیوں کو واٹر بورڈنگ کے ذریعے اذیتیں پہنچائی گئی ہیں۔

امریکا میں اب آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ سابق صدر بش اور ان کے ساتھیوں کو اس طرح کے جرائم کے الزامات میں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ یوں لگتا ہے جیسے اوباما اس بات کو ٹال رہے ہوں۔ ان کے خیال میں ہمیں آگے دیکھنا ہو گا پیچھے کی طرف نہیں۔

Guantanamo Protest

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے گوانتانامو کے حراستی مرکز کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے کا منظر

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر جوناتھن ٹرلی کا کہنا ہے کہ اگر ہم ان واقعات کی تحقیق نہیں کریں گے اور ملزمان کو عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کریں گے تو باقی دنیا امریکہ کے بارے میں کیا سوچے گی؟

ان کے بقول ’’ کیا جنگی جرائم کے مقدمات بس دوسری قوموں کے لئے ہیں؟