1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی ہاؤس پینل کی جانب سے دفاعی اخراجات کی منظوری

امریکی ہاؤس ایپروپری ایشن کمیٹی نے مالی سال 2012ء میں دفاعی اخراجات کے لیے 649 ارب ڈالر کی منظوری دے دی ہے۔ اس میں بیرون ملک جاری جنگوں کے لیے ایک سو اٹھارہ ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔

default

اسی دوران امریکی سینیٹروں نے افغان جنگ کے بارے میں نا امیدی کا اظہار بھی کیا ہے۔ انہوں نے صدر باراک اوباما پر زور دیا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے عمل کو تیز بنائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کے لیے امریکی امداد کی سخت نگرانی کے لیے بھی کہا ہے۔

اس کمیٹی نے دفاعی اخراجات کے لیے رقوم کی منظوری کے بعد بل ایوان نمائندگان کو بھیج دیا ہے، جن کی جانب سے اس پر غور آئندہ ہفتے متوقع ہے۔

دوسری جانب امریکی سینیٹ میں بھی اپنے طور پر دفاعی اخراجات کے بل پر کام کیا جا رہا ہے۔ دونوں ایوانوں کو مشترکہ بل پاس کر کے دستخط کے لیے اوباما کو بھیجنا ہو گا۔

اوباما انتظامیہ نے اکتوبر سے شروع ہونےو الے آئندہ مالی سال کے لیے 553 ارب ڈالر مانگے ہیں، جو محکمہ دفاع پینٹا گون کے بیس بجٹ کے لیے ہوں گے۔ ان میں سے پانچ سو انتالیس ارب ڈالر ڈیفنس ایپروپری ایشنز بل سے حاصل ہوں گے۔

اُدھر ڈیموکریٹک نمائندے نارمن ڈکس نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں تنازعے کے اخراجات ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:’’میں اس بات کا زیادہ سے زیادہ قائل ہوتا جا رہا ہوں کہ انتظامیہ کو افغانستان سے فوجیوں کو نکالنے کے عمل کو تیز کرنا ہوگا اور اس کے ساتھ ہی سیاسی تصفیے پر بھی کام کرنا ہو گا۔‘‘

ہاؤس پینل نے جیف فلیک کی اس تجویز سے بھی اتفاق کیا ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کے لیے منظور کیے گئے ایک ارب دس کروڑ ڈالر کے فنڈ کی سخت نگرانی پر زور دیا ہے۔

Pakistan Landschaft in Waziristan Luftaufnahme

پاکستان کے ایک قبائلی علاقے کا فضائی منظر

اس فنڈ کا مقصد انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں پاکستان کی استعداد بڑھانے میں مدد دینا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں پاکستان کو امریکہ کا اہم اتحادی قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری جانب افغانستان کی سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے کو امریکہ خطرناک ترین خطہ قرار دیتا ہے۔ واشنگٹن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج پر حملوں اور دہشت گردی کے منصوبے اسی علاقے میں بنتے ہیں۔

اُدھر امریکی آرمڈ سروسز کمیٹی نے متفقہ طور پر وزیر دفاع کے عہدے کے لیے لیون پینیٹا کی نامزدگی کی منظوری دے دی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس