1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’امریکی کمپنیاں لیبیا کے باغیوں سے تیل خرید سکتی ہیں‘

واشنگٹن حکومت نے امریکی کمپنیوں کو لیبیا کے باغیوں سے تیل خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔ یوں اوباما انتظامیہ نے پابندیاں نرم کرتے ہوئے باغیوں کی مالی مدد کرنے کی راہ نکال دی ہے۔

default

تاہم تیل کمپینیوں کو لیبیا کی عبوری قومی کونسل سے ہونے والے لین دین کے بارے میں اپنی وزارت خزانہ کو پوری معلومات دینا ہوں گی۔ اس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ان کےسودوں سے طرابلس حکومت یا اس سے متعلقہ لوگوں کو کسی طرح کا فائدہ نہیں پہنچ رہا۔

باغیوں کی اس کونسل نے امریکی حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’لیبیا کے عوام بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈٹے رہیں گے۔ ان کے لیے خوراک کی فراہمی، سلامتی اور ان کے خاندانوں کی حفاظت کے لیے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی ضروری ہے۔ یہ رقم مستقبل کی مستحکم ریاست کے قیام کے لیے بہت ضروری ہے۔ ہم اپنی برآمدات پر عائد پابندیاں نرم کرنے پر امریکی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں‘۔

دوسری جانب لیبیا کے لیے امریکی سفیر جین کریٹز نے کہا ہے کہ وہاں جاری بحران میں مرنے والوں کی تعداد 10 سے 30 ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے لیکن اصل تعداد کا پتہ لڑائی کے بعد ہی چلے گا۔

Misrata Libyen

امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد کا پتہ لڑائی ختم ہونے پر چلے گا

جین کریٹز نے واشنگٹن میں بتایا کہ لڑائی ختم ہونے تک یہ طے کرنا مشکل ہے کہ اصل میں وہاں کتنے لوگ ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا، ’ہمیں باقاعدگی سے طرابلس اور ملک کے مغربی علاقوں سے لاشیں ملنے کی خبریں مل رہی ہیں۔ جب تک یہ سب کچھ ختم نہیں ہو جاتا، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کتنے بڑے پیمانے پر خون خرابہ ہوا ہے‘۔

کریٹز نے کہا کہ قذافی کی فورسز کی جانب سے اپنے ہی اعلان کردہ سیز فائر پر عملدرآمد کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا اور وہ مصراتہ پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’قذافی اور ان کی فورسز تشدد روکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں۔ حالیہ دنوں کے دعووں کے باوجود وہ ظلم ڈھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں‘۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس